مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

دنیا بدل چکی، طاقت کی دھونس کا دور اپنی موت مر رہا ہے

دنیا بدل چکی، طاقت کی دھونس کا دور اپنی موت مر رہا ہے

دنیا بدل چکی، طاقت کی دھونس کا دور اپنی موت مر رہا ہے

حنیف صابر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حالیہ دنوں میں معروف میڈیا گروپ فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو میں عالمی سیاست کی بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی دوسری مدت کی تکمیل سے قبل، جاتے جاتے ہیں سہی، انہوں نے ایک آفاقی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے اور بڑی طاقتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اب وہ اپنی طاقت کے بل پر دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتیں۔ بظاہر یہ ایک سفارتی بیان ہے، لیکن موجودہ عالمی حالات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو گوتریس کا یہ مشاہدہ دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی، عسکری اور معاشی نظام کی ایک بڑی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک طویل عرصے تک امریکا کو دنیا کی واحد فیصلہ کن طاقت سمجھا جاتا رہا۔ امریکی فوجی برتری، جدید ٹیکنالوجی، ڈالر کی عالمی حیثیت، اقتصادی قوت، عالمی مالیاتی اداروں پر اثر و رسوخ اور دنیا بھر میں موجود اتحادیوں کے وسیع نیٹ ورک نے واشنگٹن کو غیر معمولی طاقت فراہم کی۔ ایک وقت میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ امریکا جہاں چاہے اپنی مرضی کے سیاسی اور سکیورٹی فیصلے نافذ کر سکتا ہے۔

لیکن عراق، افغانستان، شام، یوکرین اور اب ایران کے تجربات نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ریاست کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہونا اور اپنی مرضی کا سیاسی نتیجہ حاصل کر لینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔

ایران کے خلاف امریکی جنگ اس حقیقت کی تازہ ترین مثال ہے۔ امریکا کے سامنے ایران کی جوہری صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے عسکری اثر و رسوخ کو محدود یا ختم کرنے کے بڑے اہداف تھے۔ لیکن کئی ماہ کی جنگ کے بعد بھی واشنگٹن اپنے تمام بنیادی سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ ایران کو شدید فوجی اور معاشی نقصان پہنچا، اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی معیشت پر دباؤ بڑھا، لیکن اس کے باوجود ایرانی ریاست برقرار اور اس کے عوام متحد ہیں اور تہران اپنی مزاحمت کی صلاحیت بھی برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جنگ میں کسی ملک کو شدید نقصان پہنچانا اور اسے اپنی مرضی کے سیاسی فیصلے پر مجبور کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ امریکا کے پاس ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایران کو اپنی شرائط پر سیاسی طور پر جھکانے میں کامیاب ہوا؟ اگر جواب مکمل طور پر اثبات میں نہیں ہے تو پھر یہ عالمی طاقت کے استعمال کی حدود کا واضح اظہار ہے۔

ایران کے معاملے میں آبنائے ہرمز بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آئی۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی راستے نے یہ ثابت کر دیا کہ جغرافیہ اب بھی بڑی طاقتوں کی فوجی طاقت پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ ایک نسبتاً محدود جغرافیائی خطہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حقیقت کسی بھی سپر پاور کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ بھی عالمی طاقت کے بارے میں اسی پرانے تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ 2022 میں روس نے جب یوکرین پر بھرپور حملہ کیا تو یہ خیال عام تھا کہ روس اپنی فوجی برتری کے باعث بہت جلد کیف پر قابض ہو جائے گا اور یوکرینی حکومت کو شکست دے دے گا۔ لیکن جنگ طول پکڑتی گئی۔ یوکرین کی ریاست برقرار رہی، اس کی حکومت قائم رہی اور اسے مغربی ممالک کی مسلسل سیاسی، مالی اور عسکری حمایت بھی حاصل رہی۔

روس نے یوکرین کے بڑے علاقوں پر قبضہ ضرور کیا اور اسے فوجی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں، لیکن ماسکو اپنے تمام اعلان کردہ سیاسی اور عسکری اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اس جنگ کی اصل اہمیت بھی یہی ہے۔ ایک بڑی ایٹمی طاقت کے پاس اپنے پڑوسی ملک کو تباہ کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن اسے مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت لازماً موجود نہیں۔

یہ روس کی مکمل شکست نہیں، لیکن یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ جدید دور میں فوجی طاقت اور سیاسی فتح کے درمیان ایک بہت بڑا فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کا فوجی تصادم بھی اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی ایک اہم مثال ہے۔ بھارت آبادی، معیشت، دفاعی بجٹ اور فوجی وسائل کے اعتبار سے پاکستان سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس جدید مغربی اور روسی دفاعی نظام موجود ہیں اور عالمی سطح پر اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی بڑھ رہا ہے۔

اس کے باوجود بھارت پاکستان کو اپنی عددی اور معاشی برتری کے ذریعے فیصلہ کن طور پر دباؤ میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان شدید فضائی اور میزائل کارروائیوں اور بھارت کے ہزیمت اٹھانے کے بعد جنگ بندی ہوئی۔ اس تصادم نے کم از کم یہ ضرور ثابت کر دیا کہ محض بڑی معیشت، بڑی فوج اور جدید ہتھیار کسی ملک کو یہ ضمانت نہیں دیتے کہ وہ اپنے سے نسبتاً کم وسائل رکھنے والے ملک پر اپنی مرضی مسلط کر سکے گا۔

پاکستان کے لیے یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کے بارے میں کئی مفروضوں کو چیلنج کیا۔ بھارت کے پاس وسائل زیادہ تھے، لیکن پاکستان نے عسکری مزاحمت اور بھرپور اور کیا اور جنگ کو اس مقام تک پہنچنے سے روکا جہاں بھارت اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کر سکتا۔

یہ پاکستان کی تاریخی فتح اور ایک سیاسی تعبیر ہے کیونکہ اس جنگ نے بھارت کے فیصلہ کن عسکری برتری کے گھمنڈ کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جدید جنگ میں چھوٹی یا درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اگر مناسب دفاعی صلاحیت، قومی عزم، جغرافیائی برتری اور مؤثر حکمت عملی رکھتی ہوں تو بڑی طاقت کا منہ توڑ سکتی ہیں۔

اب ذرا خلیجی ممالک کی طرف دیکھیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی خلیجی ریاستوں نے اپنی بے پناہ مالی دولت کو جدید انفراسٹرکچر، عالمی سرمایہ کاری، جدید شہروں، بلند عمارتوں، جدید دفاعی نظام اور عالمی کاروباری مراکز میں تبدیل کیا۔ دبئی، ابوظبی، دوحہ اور ریاض دنیا کے بڑے اقتصادی مراکز میں شمار ہونے لگے۔

لیکن جنگ نے یہ بھی دکھایا کہ دولت اور طاقت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اربوں اور کھربوں ڈالر کے ذخائر، جدید ترین طیارے، جدید میزائل دفاعی نظام اور دنیا کی مہنگی ترین فوجی ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود خلیجی ممالک اپنی سرزمین کو علاقائی جنگ کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ سکے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا اقتصادی طاقت واقعی اسٹریٹجک خودمختاری کی ضمانت دے سکتی ہے؟

قطر اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ دنیا کے بڑے ترین ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل قطر کی گیس تنصیبات اور برآمدی نظام جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئے۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال نے اس کی توانائی کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا اور عالمی منڈیوں میں یہ سوال پیدا کر دیا کہ اگر ایک نسبتاً محدود جغرافیائی راستہ طویل عرصے تک بند ہو جائے تو دنیا کی بڑی اقتصادی طاقتیں بھی کس حد تک اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔

دولت آپ کو امیر بنا سکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ آپ کو طاقتور بھی بنا دے۔ آپ کے پاس دنیا کے بہترین شہر، بڑے سرمایہ کاری فنڈز، اربوں ڈالر کے بینک اکاؤنٹس اور جدید ترین ہتھیار موجود ہو سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اپنی سلامتی کے بنیادی فیصلوں کے لیے کسی دوسری طاقت پر انحصار کرتے ہیں تو آپ کی اقتصادی طاقت مکمل اسٹریٹجک طاقت نہیں بن سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام کو صرف فوجی طاقت یا اقتصادی حجم سے سمجھنا اب ممکن نہیں۔

حقیقی طاقت کئی عناصر کا مجموعہ ہے۔ قومی عزم، سیاسی استحکام، معاشی برداشت، جغرافیائی محل وقوع، ٹیکنالوجی، دفاعی صلاحیت، سفارتی اثر و رسوخ، عوامی مزاحمت اور بحران کے دوران اپنے مفادات کے لیے قیمت ادا کرنے کی صلاحیت، یہ سب طاقت کے اجزا ہیں۔

اسی لیے آج دنیا تیزی سے ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکا اب بھی دنیا کی بڑی ترین طاقتوں میں شامل ہے، چین اقتصادی، صنعتی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، روس کی عسکری طاقت بدستور اہم ہے، بھارت تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ درمیانے درجے کی ریاست بھی اپنے جغرافیے، میزائل صلاحیت، سیاسی مزاحمت اور غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے لیے انتہائی پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستان کی مثال بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان معاشی اعتبار سے بھارت یا بڑی عالمی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرتا، لیکن اس کے پاس جغرافیائی اہمیت، جوہری صلاحیت، دفاعی تجربہ، قومی سلامتی کا مضبوط تصور اور خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک مقام موجود ہے۔ یہی عوامل اسے اس قابل بناتے ہیں کہ اسے محض معاشی اعدادوشمار کی بنیاد پر نظر انداز نہ کیا جا سکے۔

گوتریس کا پیغام دراصل صرف امریکا، روس یا کسی ایک ملک کے لیے نہیں ہے۔ یہ پوری عالمی طاقت کے ڈھانچے کے لیے ایک انتباہ ہے۔

دنیا میں طاقت ختم نہیں ہوئی، لیکن طاقت کی اجارہ داری ضرور کمزور ہو رہی ہے۔

اب کوئی ایک ملک اپنی فوجی طاقت، معاشی حجم یا عالمی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہر بحران کا نتیجہ اپنی مرضی کے مطابق طے نہیں کر سکتا۔ ایران نے امریکا کو یہ سبق دیا، یوکرین نے روس کو یہ حقیقت دکھائی، پاکستان نے بھارت کے ساتھ تصادم میں طاقت کے روایتی تصور کو چیلنج کیا اور خلیجی ممالک نے جنگ کے دوران یہ محسوس کیا کہ بے پناہ دولت بھی کسی ملک کو جغرافیائی اور اسٹریٹجک کمزوریوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتی۔

یہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا بنیادی سبق ہے کہ طاقت اب صرف اس بات کا نام نہیں کہ آپ کے پاس کتنے طیارے، کتنے میزائل، کتنے ڈالر یا کتنے فوجی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بحران کے وقت آپ اپنی طاقت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، آپ کے مخالف کے پاس مزاحمت کی کتنی صلاحیت ہے اور آپ اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لیے کتنی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں۔

شاید اسی لیے آنے والے برسوں میں دنیا کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ سب سے طاقتور ملک کون ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں کون اپنی طاقت کی حدود کو سب سے بہتر سمجھتا ہے۔

دنیا بدل چکی ہے۔ طاقت اب بھی موجود ہے، مگر طاقت کی دھونس کا دور اپنی موت مر رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں