مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان اور برطانیہ کا تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق، اسحاق ڈار

پاکستان اور برطانیہ کا تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق، اسحاق ڈار

پاکستان اور برطانیہ کا تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق، اسحاق ڈار

لندن: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے۔

انہوں نے جمعہ کو لندن میں اپنے دورے کے دوران برطانوی حکام سے ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بارے میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ برطانوی حکام کے ساتھ مذاکرات پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حکمت عملی پر مبنی تعاون کے نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی انتہائی مفید ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور دولت مشترکہ کے دوستانہ تعلقات، رواں سال ہونے والے دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس کی تیاریوں، اصلاحاتی اقدامات اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ وزیراعظم کی شرکت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے تاہم پاکستان اجلاس میں ضرور شرکت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل نے نوجوانوں کے امور کے حوالے سے پاکستان کی بطور شریک چیئرمین کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے دولت مشترکہ کو پاکستان کی مہارت اور تجربہ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ بھی جامع ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس مرتبہ بات چیت میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن پر بھی خصوصی توجہ مرکوز رہی، جنہیں انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے قیمتی اثاثہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ نے معیشت، سرمایہ کاری، مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مستقبل میں اس شراکت داری کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق اس وقت برطانیہ کی منڈیوں میں آنے والی پاکستانی مصنوعات میں سے تقریباً 94 فیصد کو ترجیحی تجارتی سہولت حاصل ہے، جس سے پاکستان بدستور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ برطانیہ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کی مکمل حمایت کی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد انہیں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے برطانوی وزیر اسٹیفن ڈوٹی کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی اور برطانیہ کے ساتھ تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے شرکت کی۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کی سطح کی اس نوعیت کی ملاقاتیں معمول کے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت عموماً کیمروں سے دور منعقد ہوتی ہیں، اسی وجہ سے وزارت خارجہ نے ملاقات کے بارے میں صرف ایک تحریری اطلاع جاری کی اور تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ ملاقات میں امن و سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور برطانوی حکام نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں ہونے والی تمام ملاقاتوں کے دوران برطانوی حکام نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔ برطانیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج سفارتی طور پر پہلے سے کہیں بہتر مقام پر ہے اور حکومت سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے۔

انہوں نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ حالیہ جنگ میں پاکستان کی فتح سے ملک کا عالمی وقار بلند ہوا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا ہے، حالانکہ بھارت ایسا یکطرفہ طور پر نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق یہ اقدام عالمی قوانین اور معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے اور پاکستان بھارت کی آبی جارحیت کو جنگ تصور کرے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں