مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا تقریباً فیصلہ کرلیا تھا، بلاول بھٹو کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بڑا سیاسی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے قریب پہنچ چکی تھی، تاہم پیپلزپارٹی نے فوری آئینی اقدام کے بجائے سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔

کراچی میں گریٹر کراچی سیوریج پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، مگر صوبائی حکومت کی ترجیحات امن و امان کے بجائے سیاسی احتجاج اور سرگرمیاں بنی ہوئی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا ذہن بنا لیا تھا، تاہم پیپلزپارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے کسی انتہائی اقدام سے پہلے سیاسی راستہ آزمایا جائے اور تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج آئینی آپشنز ہیں، لیکن ان اقدامات سے پہلے سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے وفاقی حکومت سے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی اجازت مانگی تاکہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون کا راستہ نکالا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پیپلزپارٹی کی ریڈ لائن ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی مصلحت نہیں ہونی چاہیے۔ وفاق اور صوبے کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ اگر خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وفاق کے پاس آئینی اقدامات سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور قابلِ عمل معاہدہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے اسلام آباد میں جاری سیاسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا، سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا اور تمام سیاسی قوتوں کو ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی مذاکرات جاری ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان کشیدگی بھی قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری بھی خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر حکومت کی جانب سے سنجیدگی سے غور کیے جانے کی بات کرچکے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں