بلوچستان میں آپریشن شعبان، فتنہ الخوارج کے 71 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ اس اہم عسکری مہم کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن کے نتیجے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
آپریشن شعبان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کوئٹہ کے علاقے سران ٹنگی میں کی جانے والی تازہ ترین کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مزید چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ اس تازہ پیش رفت کے بعد سے اب تک ‘آپریشن شعبان’ کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 71 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تاکہ صوبے کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کیا جا سکے۔

مجموعی کارروائیوں کا توسیعی ڈیٹا

ذرائع نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 5 جولائی سے اب تک ‘آپریشن شعبان’ اور دیگر مربوط انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 109 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اسلام آباد میں مختلف اہم قومی اور انتظامی امور پر پیشرفت کے تناظر میں یہ آپریشن بلوچستان کے استحکام کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

برآمد شدہ اسلحہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی کھیپ بھی برآمد کی گئی ہے۔ برآمد شدہ سامان میں ایم فور رائفلیں، سب مشین گنز، راکٹ لانچر اور مواصلاتی آلات (موبائل فونز) شامل ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ یہ پیش رفت ملک میں جاری امن کوششوں کا حصہ ہے، جس طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن پر زور دیا گیا، اسی طرح داخلی سلامتی کے لیے فورسز کا یہ عزم بھی انتہائی اہم ہے۔ مزید برآں، پاکستان او آئی سی کی خواتین پر نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی جیسے بین الاقوامی اقدامات کے لیے بھی پرامن بلوچستان ناگزیر ہے۔