ایران نے امریکا کے سامنے جنگ ختم کرنے کی شرائط رکھ دیں، آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار

تہران: ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کی نئی شرائط سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی شرائط قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی گئی ہیں۔
عرب میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران جنگ کے ابتدائی 40 دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ جنگی تجربہ حاصل کر چکا ہے اور اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو ایران زیادہ طاقتور اور تکلیف دہ کارروائی کے ذریعے جواب دے گا۔
ایرانی سیکیورٹی چیف کے مطابق تہران کی شرائط میں جنگ کا خاتمہ، دونوں ممالک کی خودمختاری کا احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی فریم ورک میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے امریکی اور علاقائی تعاون سے تعمیر نو و اقتصادی ترقی کے منصوبے، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی اور خطے میں مزید امریکی فوجی تعینات نہ کرنے سے متعلق امور شامل تھے۔
محسن رضائی نے موجودہ مذاکراتی شرائط میں ایران کے لیے جنگی ہرجانے کا مطالبہ شامل نہیں کیا، تاہم ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تہران نے اب تک جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے، تاہم مستقبل میں حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی سیکیورٹی چیف نے یمن کی جنگ میں ایران کی براہ راست مداخلت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایران اور سعودی عرب کے درمیان امن کے لیے ثالثی میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کے امکان کو بھی مسترد کیا۔
ادھر امریکا نے ایران کی نئی شرائط پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ امریکی حکام نے خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی شہریوں کو موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ایران کی جانب سے نئی شرائط کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال، امریکی فوجی موجودگی اور ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔