صوبائی وزیر فضل شکور کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج، مسلح افراد پر کارروائی کی تیاری

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ صوبائی وزیر کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں نامعلوم مسلح افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق فضل شکور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ڈرائیور اور ایک پولیس کانسٹیبل بھی موجود تھا۔ موٹر وے ٹول پلازا کے قریب مسلح افراد نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو روکا اور صوبائی وزیر، ان کے ڈرائیور اور پولیس اہلکار کو گاڑی سے اتار لیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق مسلح افراد نے سرکاری گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی اور تینوں افراد کو اسلحے کے زور پر نامعلوم مقام پر لے گئے، جبکہ سرکاری گاڑی ٹول پلازا کے قریب سے برآمد ہوئی۔
واقعے پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے آئی جی خیبر پختونخوا پر مس کنڈکٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلح نقاب پوش افراد نے پولیس کی موجودگی میں صوبائی وزیر کو اٹھایا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سادہ کپڑوں میں جب بھی کوئی کسی شخص کو اٹھائے گا تو اس کا ردعمل سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فضل شکور پر حملے کی ویڈیو موجود ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر گورنر راج لگانا ہے تو لگا دیا جائے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ نامعلوم مسلح افراد کی شناخت اور صوبائی وزیر سمیت دیگر مغویوں کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ فضل شکور کے مبینہ اغوا کا واقعہ گزشتہ روز پشاور میں موٹر وے ٹول پلازا کے قریب پیش آیا تھا۔