مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی بین الاقوامی فضائی سروسز شدید متاثر، پاکستان اور مشرق بعید کے روٹس برقرار

تہران، 29 ستمبر: امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی بین الاقوامی فضائی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے تاہم ایرانی ایئرلائنز کی بیرون ملک پروازیں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔ متعدد ممالک نے ایرانی ایئرلائنز کو پرواز، لینڈنگ، ایندھن اور گراؤنڈ ہینڈلنگ سمیت فضائی خدمات کی فراہمی محدود یا معطل کر دی ہے، جبکہ ایشیا کے بعض روٹس، خصوصاً پاکستان، چین، ملائیشیا اور ویتنام کے لیے فضائی رابطے اب بھی برقرار ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی ایوی ایشن سیکٹر سے متعلق پابندیاں 23 ستمبر سے مؤثر ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات، عمان، جارجیا، آذربائیجان اور عراق سمیت متعدد ممالک میں ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں منسوخ یا معطل ہوئیں۔ امریکی پابندیوں کا بنیادی اثر براہ راست فضائی حدود بند کرنے کے بجائے ان غیر ملکی کمپنیوں، ایئرپورٹس، گراؤنڈ ہینڈلرز، ایندھن فراہم کرنے والوں اور دیگر سروس پرووائیڈرز پر ہے جو ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔

امریکہ کے لیے ایران سے براہ راست مسافر پروازیں پہلے ہی موجود نہیں ہیں اور موجودہ پابندیوں کے بعد ایرانی ایئرلائنز کے لیے امریکی فضائی رابطے کی بحالی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔ یورپ میں بھی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔ Lufthansa اور Austrian Airlines نے ایران کے لیے اپنی پروازیں 24 اکتوبر تک معطل کر رکھی ہیں، جبکہ Turkish Airlines نے ایران کے لیے اپنی پروازیں کم از کم مارچ 2027 تک معطل رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ Qatar Airways نے بھی ایران کی پروازیں فضائی حدود سے متعلق پابندیوں کے باعث معطل کر رکھی ہیں اور 29 نومبر کو ممکنہ بحالی کی تاریخ بتائی ہے، تاہم یہ تاریخ حتمی نہیں۔

افریقہ کے حوالے سے ایران کے لیے براہ راست فضائی رابطہ انتہائی محدود ہے۔ دستیاب موجودہ شیڈول کے مطابق تہران سے افریقہ کے لیے کوئی باقاعدہ براہ راست سروس موجود نہیں، اس لیے امریکی پابندیوں کے حالیہ مرحلے میں افریقی روٹس کی بندش کے بجائے پہلے سے محدود نیٹ ورک ہی برقرار ہے۔

وسطی ایشیا میں بھی ایرانی فضائی رابطے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تہران سے دوشنبے جانے والی ایک پرواز کو ترکمانستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد واپس ایران آنا پڑا۔ اس کے برعکس خطے کے تمام روٹس مکمل طور پر ختم ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم پروازوں کا شیڈول انتہائی غیر یقینی ہو گیا ہے۔

مشرق بعید اور مشرقی ایشیا ایران کے لیے نسبتاً زیادہ اہم برقرار رہنے والا فضائی خطہ ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق چین، ملائیشیا اور ویتنام کے لیے پروازیں جاری ہیں، جبکہ تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حکام نے بھی بتایا ہے کہ مشرقی ایشیا کے روٹس پر پروازیں منسوخ نہیں ہوئیں۔ حالیہ رپورٹس میں شنگھائی، بنکاک اور فوکٹ سمیت ایشیائی مقامات کے لیے پروازوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے فضائی رابطہ بھی اس وقت برقرار ہے۔ امام خمینی ایئرپورٹ کے حکام کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایرانی پروازیں امریکی پابندیوں کے نئے مرحلے کے بعد بھی آپریشن کر رہی ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکی، چین، ملائیشیا، ویتنام اور افغانستان کے لیے پروازیں جاری رہنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے 29 ستمبر کے آمد کے شیڈول میں تہران سے B9 9778 پرواز بھی درج ہے، جس کی مقررہ آمد 4 بجے اور حقیقی آمد 3:57 بجے ظاہر کی گئی ہے۔

عراق کے ساتھ فضائی رابطے میں بھی حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ رہا۔ نجف، بغداد، اربیل اور سلیمانیہ کے ہوائی اڈوں پر ایرانی پروازیں معطل کی گئی تھیں، تاہم 28 ستمبر کو عراقی ایئر ویز نے نجف اور ایرانی ایئرپورٹس کے درمیان پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔ اس بحالی کو امریکی پابندیوں کے حوالے سے ایک محدود انتظام کے بعد ممکن بنایا گیا۔

مجموعی طور پر ایران کا بین الاقوامی فضائی نیٹ ورک مکمل طور پر بند نہیں ہوا بلکہ اس کا بڑا حصہ علاقائی اور مغربی سمت میں سکڑ گیا ہے۔ امریکہ کے لیے براہ راست پروازیں موجود نہیں، یورپی سروسز بڑی حد تک معطل ہیں، خلیجی اور بعض ہمسایہ ممالک نے ایرانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ پاکستان اور مشرقی و جنوب مشرقی ایشیا کے بعض روٹس ابھی بھی ایرانی فضائی رابطے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں پروازوں کے شیڈول میں مختصر نوٹس پر تبدیلی یا منسوخی کا امکان بدستور موجود ہے۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں