سوشل میڈیا اور اے آئی کے بڑھتے استعمال سے بچوں کو نئے ڈیجیٹل خطرات کا سامنا، پارلیمنٹ، والدین اور متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنا ہوگا، مقررین

اسلام آباد: سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں اور نوجوانوں کو نئے ڈیجیٹل خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ، والدین، میڈیا اور متعلقہ اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ بات پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز اور نیشنل پریس کلب کے تعاون سے منعقدہ ڈائیلاگ ’’سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کے حقوق‘‘ میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔
سابق چیئرپرسن قومی کمیشن برائے حقوق اطفال افشاں تحسین نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت بچوں کے مستقبل، سماجی زندگی اور ساکھ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ آن لائن ہراسانی، نامناسب مواد اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کے بجائے انہیں اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دی جائے۔ والدین بچوں کے ساتھ بات کریں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں آن لائن خطرات کے بارے میں آگاہ کریں۔
سابق ڈائریکٹر نیوز ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان حنیف صابر نے کہا کہ بچوں کے حقوق سے متعلق رپورٹنگ میں صحافیوں کو مستند اعداد و شمار اور تحقیقی رپورٹس سے مدد لینی چاہیے۔ پاکستان میں بچوں کو درپیش ڈیجیٹل خطرات اور بچوں کی صورتحال سے متعلق مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باعث بچوں کو درپیش خطرات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے قوانین اور پالیسیوں کا بھی مسلسل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں سے متعلق حساس معاملات کی رپورٹنگ میں صحافتی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور صحافیوں کی تربیت پر بھی توجہ دی جائے تاکہ بچوں کی شناخت، عزت اور نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر ثوبیہ عدنان نے کہا کہ بچوں کو وقت دینے کے لیے والدین کو روزانہ صرف چند منٹ نکالنے چاہئیں۔ ناشتے، کھانے یا سونے سے پہلے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے اور انہیں اچھے اور برے میں فرق سمجھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ وقت، توجہ اور رہنمائی بھی ضروری ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں والدین کو بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔ والد اور بیٹے کے درمیان گفتگو بھی اہم ہے تاکہ بچے اپنے مسائل اعتماد کے ساتھ بیان کر سکیں۔
ڈاکٹر ثوبیہ عدنان نے خود اظہاری رویوں اور دیگر نشوونمایی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انتخابی خاموشی کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیفیت میں بعض بچے مخصوص حالات یا بعض افراد کے سامنے بات نہیں کرتے، حالانکہ وہ بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ والدین کو بچوں کے رویوں میں تبدیلی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے رابطہ کرنا چاہیے۔
طبی نفسیات کی ماہر مقدس چودھری نے سوشل میڈیا کے بدلتے رجحانات سے نمٹنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو آن لائن دنیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔ والدین بچوں کے مسائل سنیں اور ان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں تاکہ وہ اپنے مسائل اعتماد کے ساتھ بیان کر سکیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کہا کہ بچوں کے حقوق اور آن لائن تحفظ کے لیے میڈیا اور تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں اور سوشل میڈیا سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔