سی ڈی اے کا ای ایم ای کالج سے بی 17 کے قریب نکلسن مونومنٹ تک بلیو ایریا کی طرز پر 16 کلومیٹر طویل نیا کمرشل ایریا ڈویلپ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے جی ٹی روڈ کے ساتھ ای ایم ای کالج سے بی 17 کے قریب نکلسن مونومنٹ تک بلیو ایریا کی طرز پر نیا کمرشل ایریا ڈویلپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ کمرشل ایریا تقریباً 16 کلومیٹر طویل ہوگا، جبکہ منصوبے سے سی ڈی اے کو 500 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بلوم پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے جی ٹی روڈ کے ساتھ اپنی ملکیتی وسیع اراضی کو کمرشل مقاصد کے لیے ترقی دینے کی تیاری شروع کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے 1967 میں 3 ہزار 550 کنال اراضی حاصل کی تھی، جو جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف 200 فٹ چوڑی پٹی کی شکل میں موجود ہے۔ سی ڈی اے اس اراضی کو مرحلہ وار کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق مناسب منصوبہ بندی اور ضروری ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد مجموعی اراضی میں سے تقریباً 2 ہزار کنال کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکام نے کم از کم 7 لاکھ 50 ہزار روپے فی مربع گز کی تخمینی قیمت کے حساب سے اندازہ لگایا ہے کہ اگر یہ اراضی مکمل طور پر فروخت کی جائے تو سی ڈی اے کو 500 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے پورے منصوبے کو ایک ہی مرحلے میں فروخت کرنے کے بجائے اسے مرحلہ وار لانچ اور منیٹائز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ منصوبے کے تحت جی ٹی روڈ کے اطراف نئی کمرشل سرگرمیوں، کاروباری مراکز اور مختلف نوعیت کے تجارتی استعمال کے لیے اراضی کو ترقی دی جائے گی۔
منصوبے کے حوالے سے جی ٹی روڈ اور اس سے ملحقہ اراضی کی ملکیت بھی اہم ہے۔ جی ٹی روڈ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام ہے، جبکہ ای ایم ای کالج سے نکلسن مونومنٹ تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف موجود 200 فٹ چوڑی پٹی سی ڈی اے کی ملکیت ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے اپنی اراضی کی حد بندی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے اس اراضی کے ایک بڑے حصے کو پہلے ہی واگزار کراچکا ہے، جبکہ باقی تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ زمین پر قائم مستقل تعمیرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جنہیں قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہٹایا جاسکتا ہے۔
مجوزہ کمرشل ایریا کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے لیے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل اسپیشل پلاننگ اعجاز احمد شیخ نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آرکیٹیکچر علی عبداللہ کریں گے، جو منصوبے کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لے گی۔
سی ڈی اے علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کی ممکنہ طلب کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بالخصوص ترنول کے علاقے میں پٹرول پمپس اور بھاری تعمیراتی مشینری سے متعلق کاروبار کے لیے کمرشل مواقع کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
نکلسن مونومنٹ تاریخی جی ٹی روڈ پر مارگلہ پاس کے قریب واقع برطانوی دور کی ایک معروف یادگار ہے۔ اسے نکلسن اوبلیسک یا نکلسن میموریل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ یادگار برطانوی فوج کے بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی اور جی ٹی روڈ پر اسلام آباد، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے درمیان ایک نمایاں تاریخی لینڈ مارک ہے۔
سی ڈی اے کے مجوزہ منصوبے کے نتیجے میں جی ٹی روڈ کے ساتھ تقریباً 16 کلومیٹر طویل کمرشل کوریڈور وجود میں آئے گا، جسے بلیو ایریا کی طرز پر جدید کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کی مرحلہ وار کمرشلائزیشن سے سی ڈی اے کے لیے 500 ارب روپے سے زائد مالی وسائل پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔