مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

صنعتی آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر

صنعتی آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی معاشی مسابقت کا انحصار روبوٹکس، آٹومیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے پر ہے، جبکہ صنعتی آٹومیشن اب انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

انڈس آر اے ایس ایکسپو: جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا نیا باب

پاک چین فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز) ایکسپو 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو ہر روایتی صنعت کو آٹومیشن کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکسوں یا توانائی کی قیمتوں میں کمی کافی نہیں، بلکہ صنعتوں کو مینوفیکچرنگ، زراعت اور سپلائی چین میں روبوٹکس اور آٹومیشن کو شامل کرنا ہوگا۔ شزہ فاطمہ نے بتایا کہ دو روزہ ایکسپو میں بچوں، طلبہ، محققین، پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین سمیت 20 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جو ملک میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مظہر ہے۔

ڈیجیٹل معیشت اور وزیراعظم کا وژن

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیکنالوجی دوست پالیسیوں اور آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ڈیجیٹل معیشت کا ثمر ہے، وزیراعظم کے وژن کی بدولت پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے وزارت آئی ٹی، نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ (Ignite)، نیشنل سینٹر فار روبوٹکس اینڈ آٹومیشن، صنعتی شراکت داروں اور نوجوان اختراع کاروں کو کامیاب ایکسپو کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کی معیشت تیزی سے مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، بلاک چین اور روبوٹکس پر مبنی علم پر مبنی معیشت میں تبدیل ہو رہی ہے۔

عالمی مسابقت اور صنعتی جدت

ان کے مطابق روبوٹکس اور خودکار نظام ان جدید ٹیکنالوجیز کا عملی استعمال ہیں اور انڈس آر اے ایس ایکسپو نے حال ہی میں منعقد ہونے والے انڈس اے آئی ویک کی کامیابی کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک آٹومیشن اختیار نہیں کریں گے وہ عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائیں گے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں مکمل خودکار ڈارک فیکٹریاں پہلے ہی حقیقت بن چکی ہیں۔ شزہ فاطمہ نے کسانوں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور مینوفیکچررز پر زور دیا کہ وہ روبوٹکس اور آٹومیشن کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت، سپلائی چین اور اسمبلی لائنز کو جدید بنائیں تاکہ پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ ہو۔

حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت صنعتی شعبوں میں روبوٹکس کے فروغ کے لیے خصوصی روڈ شوز منعقد کرے گی، جبکہ وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت تجارت بھی اس سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق ایکسپو میں شرکت کے لیے روبوٹکس کمپنیوں کی جانب سے 500 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، تاہم جگہ کی کمی کے باعث صرف 54 کمپنیوں بشمول 10 اسٹارٹ اپس کو نمائش کا موقع دیا جا سکا، جو پاکستان میں مقامی ٹیکنالوجی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت کا مقصد اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صنعت سے جوڑنا، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان عالمی سفارت کاری کیلئے پرعزم ماحول میں نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے “Elevate” اور “Spark” کے نام سے دو بڑے پروگراموں کے ساتھ اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے 2 کروڑ ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کیے جانے کے بعد سے قومی اداروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آٹومیشن سے روزگار ختم ہو جائے گا، بلکہ ٹیکنالوجی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل کر کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں