مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: صنعتی اراضی کو رہائشی اسکیموں میں تبدیل کرنے پر پابندی

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ: صنعتی اراضی پر رہائشی منصوبے ناگزیر

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اور دوٹوک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صنعتی مقاصد کے لیے مختص یا حاصل کی گئی اراضی کو رہائشی ہاؤسنگ سکیموں میں تبدیل کرنا قانون اور عوامی مفاد کے منافی ہے۔ عدالت نے اس بات کو واضح کیا کہ زمین کے حصول کا مقصد بعد ازاں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور ایسی زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کی تفصیلات

اپنے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ صنعتی اراضی کا تحفظ قومی اقتصادی منصوبہ بندی اور پائیدار شہری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔سی ڈی اے کے ایکشن اور ہاؤسنگ سکیموں کا مستقبل: کیا صرف کارروائیاں کافی ہیں یا احتساب کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے؟

قانونی ماہرین کی آراء

قانونی حلقوں کے مطابق، یہ فیصلہ اراضی کے استعمال سے متعلق ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مستقبل میں صنعتی زمین کو رہائشی یا تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوششوں پر زیادہ سخت قانونی جانچ پڑتال متوقع ہے۔مری ایکسپریس وے کی توسیع: ترقی کا نیا باب یا کڑا امتحان؟

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں