مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایران امریکا کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لیا

ایران امریکا کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خطے کے کئی عرب ممالک نے مختلف نوعیت کے تعاون کے ذریعے امریکی کارروائیوں کی حمایت کی، جس سے علاقائی سلامتی، سفارت کاری اور توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور کویت کے درمیان اہم دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ کی جانب سے بھی خطے میں امن کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

مختلف ممالک کا امریکی کارروائیوں میں کردار

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کے دوران اردن، سعودی عرب اور عراق نے مختلف سطحوں پر اہم کردار ادا کیا۔ بعض ممالک نے فضائی دفاع، انٹیلی جنس معلومات اور لاجسٹک معاونت فراہم کی، جبکہ امریکی افواج کے لیے علاقائی تعاون کو یقینی بنایا گیا۔ اس ضمن میں کویت کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات کے دوران بھی خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اردن اور سعودی عرب کی معاونت

نیویارک ٹائمز کے مطابق اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی نگرانی اور انہیں روکنے کے لیے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی اس دفاعی حکمت عملی کا حصہ رہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے امریکی حکام کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فضائی دفاعی رابطہ کاری اور دیگر تکنیکی تعاون میں حصہ لیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس تعاون کا مقصد خطے میں ایران کی عسکری سرگرمیوں کا مؤثر جواب دینا تھا۔

عراق کی صورتحال اور ایران کا موقف

اسی دوران عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ ایران سے وابستہ مسلح گروہ جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے عراق میں اپنی تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی اور اتحادی ممالک کے اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق خطے میں حالیہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اب ایک وسیع علاقائی معاملہ بن چکا ہے، جس میں مختلف عرب ممالک بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ صورتحال مستقبل میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی، سفارتی تعلقات اور عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی کویت کے وزیر خارجہ سے اہم ملاقات بھی اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں