مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

دیرپا امن پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط جبکہ دریا پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہیں، سیف الرحمان

لاہور۔ 4 اکتوبر: وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ دیرپا امن کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے اور پائیدار معاشی ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے امن ناگزیر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سکول آف کمیونیکیشنز اسٹڈیز کے شعبہ کمیونیکیشن اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیر اہتمام ’’سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہیں اور پاکستان بھارت کو ان قیمتی آبی وسائل کو دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی برصغیر میں دوطرفہ کشیدگی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا اور واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کا رخ موڑنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔ سیف الرحمان نے کہا کہ دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے اگست میں واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کمیونیکیشن اینڈ میڈیا ریسرچ کی ڈین اور سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کو دریائے سندھ کے پانی سے متعلق اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بھارت کے دوہرے معیار کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے، کیونکہ ایک طرف بھارت عالمی اصولوں کی پاسداری کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا یکطرفہ اقدام عالمی آبی نظم و نسق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے خبردار کیا کہ اگر سندھ طاس معاہدے کا تنازع حل کیے بغیر جاری رہا اور بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس میں مزید کمی کے لیے اقدامات کیے تو جنوبی ایشیا میں ایک نیا تنازع جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سنگین صورتحال سے بچنے کے لیے بھارت کے سنجیدہ حلقوں کو سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور دیگر تمام حل طلب مسائل کو مہذب اور مذاکراتی انداز میں حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

ٹیگز: •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں