مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک

لاہور۔ 4 اکتوبر: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے سفارتی سرمائے کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی اقتصادی انضمام، بہتر باہمی تعلقات اور ایران کے ساتھ مستحکم روابط کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع سے پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا پاکستان کی مصنوعات اور خدمات کے لیے اہم منڈیاں ثابت ہوسکتے ہیں۔ گوادر کو وسطی ایشیا کی خشکی میں گھری معیشتوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ اور لاجسٹکس کا اہم گیٹ وے بنایا جاسکتا ہے، جس سے پاکستان کو ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہونے کے ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان ایسی منڈیاں ہیں جہاں پاکستان نے اب تک محدود سطح پر رسائی حاصل کی ہے، تاہم علاقائی رابطوں میں بہتری سے ان ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن، تاپی اور کاسا جیسے منصوبوں کو بھی دوبارہ فعال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، تاہم ان منصوبوں کی پیش رفت سیاسی، مالی، تجارتی اور سکیورٹی کے تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، گوداموں، بینکاری، انشورنس، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں طلب بڑھے گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سرحدی علاقوں کی آبادیوں کا معاشی مفاد بھی خطے میں امن و استحکام کے ساتھ جڑ جائے گا۔ سابق صدر سارک چیمبر نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، ٹیکس اصلاحات، ڈی ریگولیشن، نجکاری، برآمدات میں تنوع، انسانی سرمائے کی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل بلا تعطل جاری رہنا چاہیے۔ تاہم ان اصلاحات کے ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جو معاشی سرگرمیوں پر عائد سکیورٹی سے متعلق اضافی اخراجات اور خطرات کو کم کریں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سکیورٹی اور ترقی ایک ہی قومی حکمت عملی کے دو اہم پہلو ہیں۔ عدم تحفظ سے کاروباری لاگت بڑھتی، سرمایہ کاری متاثر ہوتی، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا، تجارت میں خلل پڑتا، غیر ملکی ماہرین اور سرمایہ کاروں کی آمد محدود ہوتی اور روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد ایسی معیشت کی تشکیل ہونا چاہیے جہاں سکیورٹی، ترقی اور مواقع ایک دوسرے کو تقویت دیں۔ فوجی صلاحیت خطرات کو دبانے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم پائیدار معاشی ترقی، مؤثر ادارے، سیاسی استحکام اور علاقائی امن ہی ان عوامل میں سے بہت سے عوامل کا خاتمہ کرسکتے ہیں جو وقت کے ساتھ ان خطرات کو دوبارہ جنم دینے کا باعث بنتے ہیں۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں