مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

سعودی اتحاد کی بھرپور کارروائی، یمنی فورسز کا ذوباب اور باب المندب کے اہم علاقوں پر قبضے کا دعویٰ، حوثی پسپا

صنعاء/تعز: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی سعودی حمایت یافتہ فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے دوران باب المندب کے قریب واقع اہم علاقے ذوباب پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثی ذرائع نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یمنی فوج کے مطابق نیشنز شیلڈ فورسز، حکومت نواز سدرن جائنٹس بریگیڈز اور دیگر اتحادی جنگجوؤں نے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے دوران مغربی صوبہ تعز کے ذوباب ضلع میں حوثیوں کے خلاف پیش قدمی کی اور اہم فوجی و تزویراتی مقامات پر قبضہ حاصل کیا۔ کارروائی کو فضائی مدد بھی حاصل رہی۔

یمنی فوج کے ایک فوجی ذریعے کے مطابق حکومتی فورسز نے ذوباب میں حوثیوں کی پوزیشنوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ان کی رسد کی لائنیں اور باب المندب کی جانب جانے والے راستے بھی کاٹ دیے۔ فوج کا کہنا ہے کہ لڑائی میں حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ متعدد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان بھی تباہ یا نقصان پہنچا۔ تاہم ہلاکتوں کی کوئی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔

یمنی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومتی فورسز نے باب المندب کے تزویراتی علاقے، ذوباب ایئرپورٹ اور ذوباب سے المخا جانے والی سڑک پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ان کے مطابق ذوباب کے علاقے میں سینکڑوں حوثی جنگجو گھیرے میں ہیں جبکہ بعض جنگجو سمندر کے راستے فرار ہوئے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب حوثیوں کے زیرانتظام میڈیا نے حکومتی فورسز کی ذوباب کی جانب پیش قدمی کی تردید کی ہے اور فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ علاقے میں حکومتی فورسز کی کامیابیوں کی اطلاعات ’’بے بنیاد‘‘ ہیں۔ اسی وجہ سے ذوباب اور باب المندب کے مکمل کنٹرول کی صورتحال کو ابھی فریقین کے متضاد دعووں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس بڑے فوجی آپریشن کا حصہ ہے جس کا اعلان یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔ حکومتی فورسز نے تعز، صعدہ، الجوف اور مغربی ساحلی علاقوں سمیت مختلف محاذوں پر کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ یمنی فوج کے ترجمان نے سینکڑوں فوجی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

ادھر سعودی قیادت میں اتحاد یمنی حکومتی فورسز کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق آپریشن کے دوران 100 جنگی طیارے حصہ لے رہے ہیں اور اتحاد نے 324 ’’اہم اہداف‘‘ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ باب المندب کے علاقے میں زمینی فورسز کو مسلسل فضائی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

باب المندب آبنائے انتہائی اہم تزویراتی گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس علاقے میں جاری لڑائی عالمی تجارت اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی بحری جہاز رانی کے لیے اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی دیگر اہم بحری گزرگاہیں بھی سکیورٹی خطرات سے دوچار ہیں۔

تازہ صورتحال کے مطابق یمنی حکومتی فورسز ذوباب اور باب المندب کے اطراف اپنی پیش قدمی اور حاصل کیے گئے علاقوں کو محفوظ بنانے کا دعویٰ کر رہی ہیں، جبکہ حوثی ان دعوؤں کو مسترد کر رہے ہیں۔ اس لیے فی الحال زیادہ درست صحافتی تعبیر یہ ہے کہ یمنی حکومتی فورسز نے ذوباب اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی حوثیوں نے تردید کی ہے۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں