حوثیوں کے خلاف سعودی اتحاد کا بڑا فوجی آپریشن، 100 جنگی جہازوں سے حملے، 324 اہداف تباہ کرنے کا دعوی

صنعاء/ریاض: یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فوجی کارروائی میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بڑے پیمانے پر فضائی طاقت استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے، اتحاد کے مطابق آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا جبکہ کارروائی کے دوران حوثیوں کے 324 اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ہے۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے 5 اکتوبر کو بتایا کہ ’’ڈان آف یمن‘‘ آپریشن میں 100 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اتحادی فضائیہ یمنی حکومتی فورسز کو 24 گھنٹے فضائی معاونت فراہم کر رہی ہے جبکہ باب المندب آبنائے کو بھی فضائی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے 324 ’’اعلیٰ قدر کے اہداف‘‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
یہ فوجی کارروائی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے آپریشن کے اعلان کے بعد شروع ہوئی ہے۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی کا مقصد ریاستی اختیار کو بحال کرنا اور حوثیوں کے قبضے سے علاقوں کو واپس لینا ہے۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب ذباب ضلع میں اہم پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے کے اہم مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے جبکہ باب المندب تک رسائی مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حوثی جانب سے حکومتی فورسز کی ان پیش قدمیوں کی تردید کی گئی ہے۔
یمنی حکومت اور سعودی اتحاد کی کارروائیوں کے دوران تعز اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی لڑائی میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔ باب المندب کی اہمیت کے باعث موجودہ فوجی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی شپنگ کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ حوثی ذرائع نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فضائی حملوں کی تعداد 106 بتائی ہے، تاہم یہ تعداد ’’حملوں‘‘ کی ہے، جنگی طیاروں کی نہیں، اور اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
سعودی اتحاد کی جانب سے 100 جنگی طیاروں کی شرکت اور 324 اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں کئی برس کی نسبت موجودہ لڑائی میں دوبارہ نمایاں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر لڑائی باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں تک مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات یمن سے باہر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سلامتی پر۔
یمن میں تازہ فوجی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان زمینی و فضائی محاذوں پر آنے والے دنوں کی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔