مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
کالم

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی آہٹ! کیا پیپلز پارٹی کا صدر اور گورنر یہ انتہائی اقدام اٹھا رہے ہیں!

نقش آگہی: حنیف صابر
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور حکومت و اپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بن گئے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے اہم پہلو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے حالیہ بیانات ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تو صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرکے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑے۔

اس بیان کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا مؤقف اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ گورنر نے آج کہا ہے کہ اگر صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو وہ ضرور لگائیں گے۔ ان کے مطابق اگر صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے سمجھیں کہ حالات خراب ہیں تو آئینی طور پر ایمرجنسی کی گنجائش موجود ہے۔

یوں ایک دلچسپ سیاسی صورتحال سامنے آ رہی ہے: وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے گورنر بھی ہنگامی آئینی اقدام کے امکان کو مسترد نہیں کر رہے۔

اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اچانک پشاور پہنچنا اور گورنر ہاؤس میں فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات شروع کرنا موجودہ صورتحال میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ محسن نقوی لاہور میں پریس کانفرنس کے بعد پشاور پہنچے، جہاں ان کی گورنر سے ملاقات میں صوبے کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سمیت اہم امور پر مشاورت جاری ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے اور پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ اس طرح ایک طرف سڑکوں پر سیاسی سرگرمی بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وفاقی سطح پر خیبر پختونخوا کے حوالے سے آئینی اور انتظامی آپشنز پر بحث جاری ہے۔

حکومت کے بعض ذمہ داران پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آئینی شرائط پوری ہونے کی صورت میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا راستہ موجود ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی واضح کیا ہے کہ آئین میں دونوں اقدامات کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔

یہاں اصل سیاسی سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے یا واقعی کسی بڑے آئینی اقدام کی تیاری ہو رہی ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب فی الحال سامنے نہیں آیا، لیکن بلاول بھٹو زرداری کے بیان، فیصل کریم کنڈی کے تازہ مؤقف اور محسن نقوی کی ہنگامی نوعیت کی پشاور آمد نے قیاس آرائیوں کو ضرور تقویت دی ہے۔

خصوصاً محسن نقوی اور گورنر فیصل کریم کنڈی کی موجودہ ملاقات کو اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ ملاقات کے حتمی فیصلوں یا ایجنڈے کی سرکاری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم موجودہ سیاسی بحران میں گورنر ہاؤس پشاور میں وفاقی وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر کی مشاورت ایک اہم پیش رفت ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان آئینی و انتظامی محاذ بھی کھلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر سیاسی مذاکرات کا راستہ بند رہتا ہے اور احتجاجی سرگرمی میں مزید شدت آتی ہے تو وفاق کی جانب سے آئینی آپشنز پر غور کا معاملہ مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔

اب نظریں پشاور پر ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، دوسری طرف وفاقی حکومت کا مؤقف، تیسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایمرجنسی یا گورنر راج کا عندیہ اور چوتھی طرف پیپلز پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے گورنر فیصل کریم کنڈی کا یہ کہنا کہ ضرورت پڑی تو ایمرجنسی لگائیں گے۔

اور اس سب کے درمیان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اچانک پشاور پہنچ کر گورنر ہاؤس میں اہم مشاورت کرنا—یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ کیا سیاسی گھڑی اب کسی بڑے فیصلے کے قریب پہنچ چکی ہے، یا آخری لمحے میں مذاکرات کا کوئی راستہ نکل آئے گا؟

فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا، اس لیے اسے فیصلہ نہیں بلکہ ایک زیرِ غور ممکنہ آئینی آپشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم آج کے بیانات اور پشاور میں جاری اعلیٰ سطحی مشاورت نے خیبر پختونخوا کے سیاسی بحران کو ایک نئے اور انتہائی حساس مرحلے میں ضرور داخل کر دیا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں