مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
کالم

شہر اقتدار میں ہلچل

، شہر اقتدار میں ہلچل

فرخ نواز بھٹی

کوفہ اقتدار کے ایوانوں میں اس وقت غیر معمولی طور پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، جس کو میں ہمیشہ شہر کوفہ کے نام سے بلاتا ہوں، اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے آرٹیکل کا نام بھی شہر کفر رکھا، تو مجھے بہت سارے دوستوں نے کہا کہ شہر کوفہ اپنے نام کیوں رکھا؟ تو میرا یہ کہنا تھا کہ کوفہ بنیادی طور پر ایک کیفیت کا نام ہے، اور منافقت، دو رُخی، دوہرے معیار، اقتدار پرستوں کے آگے سرنگوں ہونا، یہ اس مزاج کی خاص علامات ہیں۔

اس وقت شہر اقتدار اسلام آباد میں چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔ کوئی نگران حکومت کی بات کر رہا ہے تو کوئی اقتدار لپیٹے جانے کی گفتگو کر رہا ہے۔ اقتدار کی راہداریوں میں کھیل تماشا شروع ہو چکا ہے، اور اس دفعہ بھی لگ یوں رہا ہے کہ عوام کے حصے میں صرف نعرے ہی آئیں گے۔ عوام کی تقدیر کا فیصلہ جب تک اس ملک کی ایلیٹوکریسی کے ہاتھ میں رہے گا، کوئی بہت بڑی تبدیلی آنے کی بظاہر توقع نظر نہیں آ رہی۔

اور بہت سارے دوست جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھ جائے گا، تو ان کو صرف میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اقتدار اتنا بے وفا ہے کہ جب یہ کرسی چھن جاتی ہے تو بہت سارے لوگوں کو یقین ہی نہیں ہوتا۔ اسی لیے شہر اقتدار میں ایک دفعہ پھر اپنا حصہ وصول کرنے والے تمام کردار متحرک ہو چکے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی کی طرح مزید تجربات ہی کیے جائیں گے، یا پھر اس ملک کی 27 کروڑ عوام کی امنگوں کے مطابق تمام اسٹیک ہولڈر کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر گاؤں کے کالے خان میراثی کے بیٹے کی بات مجھے یاد آتی ہے، جس نے کہا تھا: “ابا جی، اگر گاؤں کا نمبردار مر گیا تو نمبرداری کس کو ملے گی؟” اس نے کہا کہ اس کے بیٹے کو۔ اس نے کہا کہ اگر اس کا بیٹا بھی مر گیا؟ اس نے کہا کہ اگر اس کا بیٹا بھی مر گیا تو اس نے کہا پھر اس کے کسی رشتہ دار کو۔ بیٹے نے پھر سوال کیا کہ ابا، اگر رشتہ دار بھی مر گیا؟ اس پر کالے خان میراثی کے صبر کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور اس نے کہا کہ بیٹا، اگر سارا گاؤں بھی مر گیا تو تمہاری باری نہیں آئے گی۔

مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پاکستان کے کسانوں، غریبوں، محنت کشوں، مزدوروں اور مڈل کلاس کو نمائندگی نہیں دے گی، اس لیے نظام کے حوالے سے یہ سلگتا ہوا سوال بھی گزشتہ 70 سالوں سے یہ قوم سن کر تھک گئی ہے کہ بہت جلد پاکستان کے حالات بہتر ہو جائیں گے، لیکن ہر آنے والا دن پاکستان کے مظلوم طبقات کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

کسانوں کے ساتھ جس بے دردی کے ساتھ سلوک روا رکھا جا رہا ہے، ان کی فصلیں سمیٹ کر چند کمپنیاں لے جا رہی ہیں۔ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے بے بس اور بے کس عوام پتہ نہیں کب خواب سے جاگیں گے؟ جاگیرداروں، وڈیروں، سرکاری بابوؤں کے خون آشام پنجوں سے انہیں کب نجات ملے گی؟

آج کل نئے صوبے بنانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے، لیکن کیا کسی نے آج تک یہ سوچا ہے کہ اٹک سے لے کر ماچھی گوٹھ تک 17 کروڑ کا صوبہ ایک آئی جی اور ایک وزیراعلیٰ کیسے کنٹرول کر سکتے ہیں؟ صوبے بنانے سے پاکستان مضبوط ہوگا، اختیارات نچلی سطح تک جائیں گے، لیکن اس سے ایک مخصوص طبقے کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جو اس نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے ہمیشہ خواہشمند رہے ہیں۔

ادارہ جاتی کرپشن اپنی حدوں کو چھو رہی ہے۔ سرکاری بابو ایسٹ انڈیا کمپنی کے لارڈز کی طرح ڈیل کر رہے ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس کو طاقتور بنانے کے بعد وہ اپنا سارا غصہ لوئر مڈل کلاس اور غریبوں پر نکال رہے ہیں۔ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم ملک کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، تو تمام اسٹیک ہولڈر یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے روکا ہوا ہے؟

اپنے اپنے مفادات کے گرد گھومتے یہ کردار عوام کے نام پر مسلسل فراڈ کیے جا رہے ہیں۔ اقتدار کے کھیل تماشے میں شریک تمام کردار صرف اور صرف اپنے حصے کا چونا لگا کر پتلی گلی سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اڈھاک بنیادوں پر ملک کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب تک عوام کو ریلیف نہیں ملتا، نوجوانوں کو بہتر ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، بے چینی موجود رہے گی۔

ادارہ جاتی کرپشن کا لیول یہ ہو گیا ہے کہ صرف بیت المال میں کروڑوں روپے غریبوں اور یتیموں کے ہڑپ کرنے والوں کے خلاف انکوائری کرنے والے کو نہ صرف تبدیل کیا جاتا ہے بلکہ اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ قائمہ کمیٹی بار بار سوال کرتی ہے کہ اس پر کیا کارروائی ہوئی، لیکن بیت المال کے سربراہ جواب دینے کی بجائے انہی کرداروں کو ساتھ لے کر نہ صرف چل رہے ہیں بلکہ اس انکوائری کو بھی سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔

یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہر ادارے کے اندر ایک طاقتور مافیا بیٹھا ہوا ہے جو مبینہ طور پر فائلوں کو پہیے لگنے کے فارمولے کے بغیر کسی کا کام نہیں کرتا۔ صرف گزشتہ چار سال کے دوران اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور اس پر اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ پارلیمنٹ میں ایک مفصل رپورٹ بھی پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ طاقتور کے سامنے قانون موم بتی ثابت ہو رہا ہے اور کمزور کے لیے سخت ترین سزائیں تجویز کی جا رہی ہیں۔

70 سال سے اس دھرتی ماں کو لوٹنے والے کرداروں سے اب یہ دھرتی ماں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مجھ میں اب مزید زخم سہنے کی سکت نہیں رہی۔ کراچی کے ساحلوں سے لے کر بہاولپور کے صحرا تک، اور ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر بلوچستان کے بارڈر تک، اور وہاں سے لے کر کوفہ مزاج شہر اقتدار تک، اس دھرتی ماں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام اسٹیک ہولڈر اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر بیٹھ جائیں، جس کے لیے گریٹڈ ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کیونکہ اب بھی اگر ماضی کی طرح قوم کو ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی گئی تو پھر شاید نہ صرف مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ پہلے سے زخموں سے چور یہ دھرتی ماں کی چیخیں ساتویں آسمان تک پہنچ جائیں گی۔ خدا نہ کرے ایسا وقت آئے۔

اور یہ بھی تمام لوگ خیال رکھیں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، مزدوروں، نوجوانوں اور لوئر مڈل کلاس کے آنسوؤں پر عمارت کھڑی کریں گے اور آپ کے اپنے بچے محفوظ رہیں گے۔

اسی لیے آج کا نوجوان چیخ چیخ کر اپنے قائد محمد علی جناح کو یاد کرتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے:

اے میرے قائدِ عظیم قائد! میں سر جھکائے صلیبِ غم کو گلے لگائے پھٹے گریبان کے تار لے کر جواں لہو کی پکار لے کر میں پھر اپنے دھاگے ستم دکھانے میں تیری چوکھٹ پہ آ گیا ہوں تو حیرتوں سے نہ دیکھ مجھ کو میں تیری دلہن سے سرزمین کی لٹی جوانی کا ایک نغمہ ہوں میں تیرے خوابوں کے پرزہ پرزہ بدن سے اٹھتی ہوئی ردا ہوں اے میرے قائدِ عظیم قائد!

حسین گلشن کو باغ باں نے اجاڑ ڈالا کلی کلی کو مسل دیا ہے ہر ایک پودا اکھاڑ ڈالا تمام شاخوں، تمام پھولوں کی گردنوں پر خزاں کا خنجر لٹک رہا ہے انا کی بجلی چمک رہی ہے ہوس کا بادل کڑک رہا ہے یہ ذاتی جھگڑوں کی اندھی دیوی جوان خوابوں کی زندہ لاشوں پہ ہنس رہی ہے

میرے قائد، اچھے قائد! یہ سانحہ بھی ہم ہی پہ گزرا کہ تیرے خوابوں کے سارے قاتل ہماری بستی کے حکمران تھے جنہوں نے تیرے اصول توڑے انہوں نے رتبے بلند پائے چلے جو نقشِ قدم پہ تیرے انہوں نے لاکھوں ستم اٹھائے

اے میرے قائدِ عظیم قائد! ہم ایسے راہی کہ جن کی منزل اندھیری راہوں میں کھو چکی ہے تو اپنے جذبوں کی روشنی سے ہمیں دکھا دے نشانِ منزل ہمیں دکھا دے نشانِ منزل

اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں