مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

قطر کی ثالثی میں ایران امریکہ مذاکرات بے نتیجہ ختم، فوجی تصادم کے خطرات پھر بڑھ گئے

دوحہ: قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی اہم پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے مذاکرات سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ اپنے اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوئے، جس کے باعث مذاکرات میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا۔

رپورٹ کے مطابق قطری ثالث نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کے ساتھ کئی گھنٹوں تک ملاقات کی۔ اس دوران قطر کی جانب سے پیش کی گئی دو صفحات پر مشتمل مجوزہ مفاہمتی دستاویز پر بھی غور کیا گیا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کے معاملے پر ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔

Axios کے مطابق وائٹ ہاؤس مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے پرامید تھا، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسے کسی فوری سمجھوتے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی، جبکہ تہران بھی اپنے اہم مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب Reuters کے مطابق 30 ستمبر کو بھی قطر کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری تھا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو امریکی فریق کا جواب موصول ہوچکا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ دوحہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا سلسلہ برقرار ہے۔

مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے باعث خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی کے خدشات برقرار ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کی ناکامی کی صورت میں ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں