یورپی یونین چھوڑنے سے فائدہ کم، نقصان زیادہ ہوا، دوبارہ شمولیت سمیت تمام آپشن زیر غور ہیں، برطانوی وزیر اعظم

لندن، 30 ستمبر 2026: برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی یعنی بریکزٹ نے برطانیہ کو فائدے کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور حکومت یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں کسٹمز یونین، سنگل مارکیٹ اور حتیٰ کہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت میں دوبارہ شمولیت بھی شامل ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو بریکزٹ کے بعد قائم ہونے والے موجودہ انتظامات کا جائزہ لینا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں یورپی یونین کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات ہونے چاہییں۔
اینڈی برنہم نے کہا کہ ممکنہ راستوں میں موجودہ بریکزٹ انتظام برقرار رکھنا، یورپی یونین کی کسٹمز یونین میں دوبارہ شامل ہونا، سنگل مارکیٹ تک رسائی میں تبدیلی یا مکمل طور پر یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ان میں سے کسی آپشن کو حتمی طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
برطانوی وزیراعظم کا یہ بیان ایک روز قبل لیبر پارٹی کی کانفرنس میں بریکزٹ کے حوالے سے ان کے تبصرے کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وہاں کہا تھا کہ بریکزٹ نے برطانیہ کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان پیدا کیا ہے اور اب یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
برنہم کے مطابق بریکزٹ کے بعد برطانیہ کو تجارت، اقتصادی تعلقات اور یورپی منڈی تک رسائی سمیت مختلف شعبوں میں نئے انتظامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس لیے حکومت کو جذبات کے بجائے عملی بنیادوں پر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ مستقبل میں یورپی یونین کے ساتھ کس سطح کے تعلقات برطانیہ کے لیے موزوں ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے یورپی یونین کی مکمل رکنیت میں دوبارہ شمولیت کو بھی ممکنہ آپشنز میں شامل کرنا برطانوی سیاست میں اہم بیان سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ برطانیہ نے یورپی یونین میں واپس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی بحالی کی صورت میں برطانیہ کو باقاعدہ سیاسی اور قانونی عمل سے گزرنا ہوگا اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ الحاق کی شرائط پر مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں کسٹمز یونین یا سنگل مارکیٹ سے متعلق انتظامات نسبتاً محدود نوعیت کے ہوں گے، لیکن ان کے لیے بھی یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدوں اور مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
برطانیہ نے 2016 کے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا، جبکہ بریکزٹ کا عملی عمل بعد میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد تجارت، امیگریشن، اقتصادی تعلقات اور یورپی ممالک کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات ملکی سیاست میں مسلسل زیر بحث رہے ہیں۔
اینڈی برنہم کے تازہ بیان سے اس بحث کو مزید تقویت ملی ہے کہ بریکزٹ کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات کو کس حد تک تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم وزیراعظم کی موجودہ پوزیشن کے مطابق یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت سمیت مختلف راستے زیر غور ہیں اور کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔