ہنگری کے وزیر اعظم کے خلاف شہری سے موبائل فون چھیننے کے الزام میں تحقیقات، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا

بڈاپسٹ، 30 ستمبر: ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم پیٹر میجار کا پارلیمانی استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جس کے بعد پراسیکیوٹرز ان کے خلاف 2024 میں ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے موبائل فون کے واقعے سے متعلق فوجداری تحقیقات آگے بڑھا سکیں گے۔
پارلیمنٹ نے 28 ستمبر کو وزیراعظم پیٹر میجار سمیت تین ارکان پارلیمنٹ کا استثنیٰ ختم کرنے کی منظوری دی۔ قرارداد کے حق میں 139 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔
یہ معاملہ 21 جون 2024 کی علی الصبح بڈاپسٹ کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے۔ ہنگری کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق پیٹر میجار، جو اس وقت یورپی پارلیمنٹ کے رکن تھے، نائٹ کلب میں موجود تھے جہاں ایک شخص موبائل فون کے ذریعے ان کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ویڈیو بنانے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور اس دوران میجار نے مبینہ طور پر مذکورہ شخص کے ہاتھ سے موبائل فون لے کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے موبائل فون دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا۔ فون کو بعد میں غوطہ خوروں کی مدد سے دریا سے برآمد کرلیا گیا۔
ہنگری کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے ستمبر 2024 میں اس واقعے کی بنیاد پر پیٹر میجار کے خلاف مبینہ چوری کے شبہے میں تحقیقات شروع کرنے کے لیے ان کا یورپی پارلیمانی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم اس وقت ان کا استثنیٰ برقرار رہا اور کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔
بعد ازاں پیٹر میجار ہنگری کی پارلیمنٹ کے رکن بنے اور وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ان کے نئے پارلیمانی استثنیٰ کے باعث پراسیکیوٹرز نے دوبارہ پارلیمنٹ سے رجوع کیا، جس نے اب اسے ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پیٹر میجار نے اپنے خلاف عائد الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اس معاملے کو سیاسی بنیادوں پر ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے ارکان سے بھی استثنیٰ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دینے کا کہا تھا۔
پارلیمانی استثنیٰ ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعظم پیٹر میجار جرم کے مرتکب ثابت ہوچکے ہیں۔ ان کے خلاف ابھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔ پراسیکیوٹرز اب قانونی استثنیٰ کی رکاوٹ کے بغیر کیس کی تحقیقات آگے بڑھا سکیں گے۔
ہنگری کی پارلیمنٹ نے اسی اجلاس میں سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت میں شامل رہنے والے دو سابق وزرا، بالاش ہانکو اور میکلوس شیشتاک، کا پارلیمانی استثنیٰ بھی ختم کیا۔ دونوں کے خلاف الگ الگ مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔