پاکستان سمیت 12 ممالک کی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کی مخالفت، ویٹو کا حق ختم کرنے پر زور

اسلام آباد: پاکستان سمیت 12 ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور طویل مدت کے لیے علاقائی بنیادوں پر منتخب ہونے والی نشستیں متعارف کرانے کی حمایت کردی۔انادولو ایجنسی کے مطابق پاکستان، ارجنٹائن، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹا ریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکیہ پر مشتمل ’یونائٹنگ فار کنسنسس‘ گروپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران مشترکہ بیان جاری کیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ گروپ ایسی سلامتی کونسل کے قیام کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتا ہے جو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جواب دہ اور مؤثر ہو اور موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہو۔گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے سے مختلف خطوں کو زیادہ مؤثر نمائندگی ملے گی جبکہ تمام ممالک کی خودمختار برابری کے اصول کو بھی برقرار رکھا جاسکے گا۔بیان میں خاص طور پر افریقہ کی سلامتی کونسل میں تاریخی طور پر کم نمائندگی ختم کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکا اور کیریبین کے خطوں کی نمائندگی میں اضافے کی بھی حمایت کی گئی۔’یونائٹنگ فار کنسنسس‘ گروپ نے سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں بنانے کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل میں اصلاحات کے لیے جاری بین الحکومتی مذاکرات ہی اس معاملے پر بات چیت کا جامع اور جائز فورم ہیں۔گروپ نے مستقل ارکان کے ویٹو کے حق کے خاتمے کی حمایت بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ فوری طور پر ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات پر زور دیا گیا، بالخصوص بڑے پیمانے پر مظالم اور جنگی جرائم سے متعلق معاملات میں۔پاکستان اس سے قبل بھی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں بنانے کی مخالفت اور منتخب نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ سلامتی کونسل میں جمہوریت، جواب دہی اور شفافیت کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مستقل نوعیت کی نئی طاقت کے مراکز پیدا کرسکتا ہے، جبکہ منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے سے علاقائی نمائندگی کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔