مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر ناکام ہوں گے، صدر

بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر ناکام ہوں گے، صدر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی جانب سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تمام تر مذموم کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز ایوان صدر میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے دوران کیا۔

بلوچستان میں پائیدار امن اور خوشحالی اولین ترجیح

صدر زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور انہیں مکمل امید ہے کہ بلوچستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی لعنت کا جلد اور مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس تناظر میں حکومتی سطح پر ہونے والے اقدامات ملک میں امن کی بحالی کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جس طرح ماضی میں راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، واسا نے رین ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، اسی طرح قومی مفاد کے اہم معاملات پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وفاقی و صوبائی ہم آہنگی پر زور

ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صدر مملکت کو صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور صوبہ بھر میں جاری متعدد ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی، جاری ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان انتہائی مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

ترقیاتی وسائل کی فراہمی

صدر زرداری نے مزید کہا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو قومی ترقی میں خصوصی توجہ اور مناسب وسائل کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ صوبے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتی سطح پر اہم پیش رفت ہوئی ہے جیسے کہ پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح، گوگل کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات ایک خوش آئند قدم ہے، اسی طرز پر بلوچستان کے لیے بھی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ کی مرکزی صدر فریال تالپور اور سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے، جنہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال میں حصہ لیا۔ ملکی مسائل کے حل کے لیے عمران خان سے متعلق فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، فضل الرحمان جیسے بیانات ملکی سیاست میں جاری گہما گہمی کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم بلوچستان کا امن ملکی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں