مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر تاجر برادری رنجیدہ، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر تاجر برادری رنجیدہ، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر تاجر برادری رنجیدہ، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے رہنماؤں نے پمز ہسپتال کے المناک سانحے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری، جی نائن کراچی کمپنی کے صدر راجہ ذوالفقار، جی الیون مرکز کے صدر نعیم اعوان، ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان، ایف ایٹ مرکز کے جنرل سیکرٹری اسماعیل خان، آئی ایٹ مرکز کے صدر وحید چیمہ، آئی نائن مرکز کے صدر صفدر عباسی، بلیو ایریا ایسٹ کے صدر عماد بن عارف، بہارہ کہو سملی روڈ کے صدر راجہ زاہد دھنیال، جی ایٹ مرکز کے صدر عجب خان، ستارہ مارکیٹ کے صدر الطاف شاہ، ایف سکس سپر مارکیٹ کے صدر شہزاد عباسی، جی ٹین مرکز کے صدر کامران کاکاخیل، پی ڈبلیو ڈی کے صدر چوہدری ریاست علی اور آبپارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پوری تاجر برادری غم زدہ والدین اور دیگر لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

تاجر رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے والدین کو یہ ناقابل تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر جمیل عطا فرمائے۔

خالد چوہدری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والا یہ دل خراش سانحہ پمز کے حفاظتی اور انتظامی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات مؤثر کیوں ثابت نہ ہوئے اور امدادی کارروائی میں کہاں اور کس سطح پر کوتاہی ہوئی۔

تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آگ سے نمٹنے کے انتظامات، فائر فائٹنگ نظام، ہنگامی اخراج کے راستوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ سانحے کی اصل وجوہات سامنے آسکیں۔

انہوں نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ سطحی انکوائری کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات غیر جانب دار اور شفاف انداز میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں اور انکوائری رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لائی جائے۔

راجہ ذوالفقار اور احمد خان نے کہا کہ غفلت یا فرائض میں کوتاہی کے ذمہ دار افراد کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ وحید چیمہ اور راجہ زاہد دھنیال نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ میں تاخیر نہ کی جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

تاجر رہنماؤں نے مزید مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات، آگ کی نشاندہی اور الارم کے نظام، ہنگامی اخراج کے راستوں، بجلی کے نظام، طبی آلات اور عملے کی ہنگامی تربیت کا فوری اور جامع حفاظتی آڈٹ کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں باقاعدگی سے حفاظتی مشقیں کرائی جائیں اور واضح ایمرجنسی رسپانس پلان نافذ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دل خراش واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے، اس لیے پمز سانحے کو محض رسمی انکوائری تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے اسباب کا مستقل تدارک کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی و انتظامی نظام میں عملی اصلاحات یقینی بنائی جائیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں