یکم اکتوبر سے کرکٹ کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں، بیٹرز کو وقت ضائع کرنے پر 5 رنز کی سزا

اسلام آباد: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والی بین الاقوامی سیریز کے لیے کھیل کے قوانین میں متعدد اہم تبدیلیاں نافذ کردی ہیں، جن میں بیٹرز کی جانب سے وقت ضائع کرنے پر 5 رنز کی پنالٹی، خواتین کی کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے نئے معیارات، ڈے ٹائم ٹیسٹ میں پنک بال کے استعمال کی آزمائش، آخری اوور کے قوانین میں تبدیلی اور فیلڈنگ سے متعلق قوانین کی وضاحت شامل ہے۔
آئی سی سی کے مطابق نئے قوانین ان تمام بین الاقوامی سیریز پر لاگو ہوں گے جو یکم اکتوبر 2026 یا اس کے بعد شروع ہوں گی، جبکہ اس تاریخ سے پہلے شروع ہونے والی سیریز سابقہ قوانین کے تحت جاری رہیں گی۔ نئے Playing Conditions میں مردوں اور خواتین کی تمام فارمیٹس کی کرکٹ کے لیے تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں۔
بیٹرز کو وقت ضائع کرنے پر 5 رنز
نئے قانون کے تحت اگر بیٹر مقررہ وقت کے اندر اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار نہ ہو تو پہلی خلاف ورزی پر وارننگ دی جائے گی۔ دوسری خلاف ورزی پر آخری وارننگ ہوگی جبکہ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو 5 پنالٹی رنز دیے جائیں گے۔
بار بار وقت ضائع کرنے کی صورت میں کھلاڑی کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت اضافی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد کھیل کی رفتار برقرار رکھنا اور غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا ہے۔
خواتین کی کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے نئے معیار
آئی سی سی نے خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کے سائز اور وزن کے حوالے سے بھی زیادہ واضح اور سخت حدود مقرر کردی ہیں۔
اب مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کی تین الگ الگ specifications ہوں گی۔ اس سے قبل بعض مینوفیکچررز خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے ایک ہی قسم کی گیند تیار کرتے تھے۔ نئے قواعد کا مقصد تینوں کیٹیگریز کے لیے گیند کے معیار میں واضح فرق اور مستقل مزاجی پیدا کرنا ہے۔
دن کے وقت ٹیسٹ میں پنک بال کی آزمائش
ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اہم تبدیلی کے تحت دن کے وقت کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچز میں پنک بال استعمال کرنے کی آزمائش کی اجازت دے دی گئی ہے۔
دونوں ٹیموں کی باہمی رضامندی سے میچ شروع ہونے سے پہلے پنک بال استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے گا، جس کا بنیادی مقصد خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضائع ہونے والے وقت کو کم کرنا ہے۔
ایک مرتبہ پنک بال کے استعمال پر اتفاق ہوجانے کے بعد میچ کے دوران فیصلہ تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔ اسی طرح میچ شروع ہونے کے بعد سرخ گیند کو پنک بال سے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے سے کھیل لازماً ختم نہیں ہوگا
ٹیسٹ کرکٹ میں آخری اوور کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ اب اگر دن کے آخری مقررہ اوور کے دوران وکٹ گر جائے اور اوور کی تمام گیندیں مکمل نہ ہوئی ہوں تو صرف وکٹ گرنے کی وجہ سے دن کا کھیل فوری طور پر ختم نہیں ہوگا۔
اگر موسم اور دیگر حالات کھیل جاری رکھنے کے لیے سازگار ہوں تو اوور کی باقی گیندیں بھی اسی دن کرائی جائیں گی۔ اس تبدیلی کا مقصد وقت کے ضیاع کو کم کرنا ہے کیونکہ پہلے باقی گیندیں اگلے روز کرانا پڑتی تھیں۔
اوور تھرو کی تعریف مزید واضح
فیلڈنگ کے دوران اوور تھرو کے قانون میں موجود ابہام بھی ختم کردیا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق اوور تھرو اس کوشش کو کہا جائے گا جس میں فیلڈر گیند کو رنز روکنے یا رن آؤٹ کرنے کے لیے اسٹمپس کی جانب پھینکتا ہے۔ تاہم محض غلط فیلڈنگ، خواہ گیند روکنے یا دوسرے فیلڈر کو گیند منتقل کرنے کی کوشش ہو، اوور تھرو تصور نہیں ہوگی۔
’بال فائنلی سیٹلڈ‘ کی تعریف میں تبدیلی
گیند کے ’finally settled‘ ہونے کے قانون میں بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اب گیند کا لازماً بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں ہوگا تاکہ امپائر اسے مکمل طور پر سیٹل قرار دے سکے۔
اس تبدیلی کی خاص اہمیت ان لمحات میں ہوگی جہاں آخری گیند پر رن لینے، رن آؤٹ یا دیگر فیصلے کا معاملہ انتہائی معمولی فرق سے طے ہوسکتا ہے۔
رن آؤٹ اور اسٹمپنگ میں فیلڈر کا مکمل کنٹرول ضروری
نئے قانون کے مطابق اگر کوئی فیلڈر رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے دوران وکٹیں گراتا ہے تو صرف گیند کو ہاتھ سے چھونا کافی نہیں ہوگا۔ فیلڈر کے پاس گیند کا مکمل کنٹرول ہونا ضروری ہوگا۔
یعنی اگر گیند فیلڈر کے ہاتھ سے ٹکرا رہی ہو لیکن اس پر مکمل گرفت اور کنٹرول نہ ہو اور اسی دوران وکٹیں گرا دی جائیں تو اسے گیند ’held‘ ہونے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ٹی20 انٹرنیشنل میں وقفہ 15 منٹ
ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں اب وقفے کا دورانیہ 15 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔
تاہم اگر میچ کے دوران وقت ضائع ہوچکا ہو تو یہ وقفہ کم کرکے کم از کم 10 منٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مقصد میچ کے مجموعی دورانیے کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ میدان میں آسکیں گے
ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کی جانب سے نامزد نمائندے کو ٹیم سے مشاورت کے لیے میدان میں آنے کے قوانین کو بھی یکساں کردیا گیا ہے۔
اس سے دونوں محدود اوورز کے فارمیٹس میں ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے درمیان مختصر دورانئے میں براہ راست مشاورت کی اجازت واضح ہوجاتی ہے۔
لیگ سائیڈ وائیڈ کا آزمائشی قانون مستقل ہوگیا
ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل میں لیگ سائیڈ وائیڈ سے متعلق آزمائشی قانون کو اب مستقل طور پر Playing Conditions کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
اس قانون میں بیٹر کی پوزیشن اور گیند کے گزرنے کی جگہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وائیڈ کے فیصلے کے لیے زیادہ واضح معیار مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی پہلے آزمائشی بنیادوں پر استعمال کی جارہی تھی۔
نئے قوانین کا اطلاق کب ہوگا؟
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2026 سے پہلے شروع ہونے والی بین الاقوامی سیریز پرانے قوانین کے تحت جاری رہیں گی، جبکہ یکم اکتوبر یا اس کے بعد شروع ہونے والی سیریز نئے Playing Conditions کے تحت کھیلی جائیں گی۔
آئی سی سی کے مطابق یہ تبدیلیاں جدید کرکٹ میں کھیل کی رفتار بہتر بنانے، قوانین میں موجود ابہام ختم کرنے، گیندوں کے معیار کو زیادہ یکساں بنانے اور فیلڈنگ سے متعلق فیصلوں میں وضاحت پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔
آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سارو گنگولی نے کہا کہ نئے Playing Conditions میں گیند، فیلڈنگ اور کھیل کی رفتار سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں اور انہیں اس مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ قوانین جدید کرکٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں جبکہ کھیل کی سالمیت اور مستقل مزاجی بھی برقرار رہے۔