حکومت پی ٹی آئی مذاکرات کا پہلا دن بے نتیجہ، لانگ مارچ پر ڈیڈلاک برقرار، عمران خان سے ملاقات سمیت اہم مطالبات زیر بحث، کل پھر مذاکرات ہوں گے

اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا، فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے مؤقف اور مطالبات رکھ دیے، تاہم لانگ مارچ، عمران خان سے ملاقات، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں سمیت اہم معاملات پر کوئی حتمی پیش رفت نہ ہوسکی، دونوں جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کے بعد اگلا دور کل ہوگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات میں حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومتی مذاکراتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، سینیٹر شیری رحمٰن، سید نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، طلال چوہدری اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شامل تھے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ، علامہ راجہ ناصر عباس اور حلیم عادل شیخ نے مذاکرات میں شرکت کی۔
مذاکرات کے آغاز ہی میں حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال کا معاملہ اٹھایا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر حکومت کا مؤقف سامنے رکھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے سیاسی معاملات کو مذاکرات کا مرکزی موضوع قرار دینے پر زور دیا۔
حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کا معاملہ بھی بھرپور انداز میں اٹھایا گیا۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ یا کسی قسم کی یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پی ٹی آئی سے احتجاج مؤخر یا واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات اور مشاورت، گرفتار پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے معاملات، عدالتی امور اور دیگر سیاسی مطالبات مذاکرات میں پیش کیے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ اہم سیاسی معاملات پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے۔
مذاکرات کے دوران بعض معاملات پر ماحول بھی گرم ہوا اور عدالتی امور پر رانا ثناء اللہ اور علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس پر اسپیکر ایاز صادق نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کو تحمل اور افہام و تفہیم سے مذاکرات آگے بڑھانے کی تلقین کی۔
مذاکرات کے دوران نماز جمعہ کے لیے وقفہ کیا گیا، جس کے بعد بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات کا پہلا دن کسی بڑے بریک تھرو کے بغیر ختم ہوا۔ لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلاف برقرار ہے جبکہ عمران خان سے ملاقات اور دیگر سیاسی مطالبات پر بھی ابھی کوئی حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور کل 3 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوگا۔
یوں پہلے روز مذاکرات نے سیاسی تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ تو کھلا رکھا ہے، تاہم فریقین کے سخت مؤقف کے باعث اصل آزمائش اب کل کے اجلاس میں ہوگی، جہاں لانگ مارچ، عمران خان سے ملاقات اور سیاسی و عدالتی معاملات پر اختلافات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔