مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

حکومت، پی ٹی آئی مذاکرات 13 گھنٹے بعد ناکام، لانگ مارچ ختم کرنے پر ڈیڈ لاک، سہیل آفریدی کا آج سے مارچ شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 13 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات لانگ مارچ ختم کرنے کے معاملے پر ناکام ہوگئے، ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آج 4 اکتوبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں حکومت نے موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مارچ ختم کرنے سے انکار کردیا۔

پی ٹی آئی مذاکراتی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے، جس کے بعد ہی لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے۔ اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر، عامر ڈوگر، علامہ راجہ ناصر عباس، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران 3 ایم پی او کے تحت گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوئی اور بعض امور پر پیش رفت سامنے آئی، تاہم لانگ مارچ ختم کرنے کے بنیادی معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

حکومتی رکن امیر مقام نے مذاکرات میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ کا اعلان کردیا۔ حکومت نے اسے مذاکراتی عمل کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اعتماد کی فضا بحال کرنا ضروری ہے۔

مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کا آغاز لکی مروت کے گنڈی چوک سے دوپہر ایک بجے ہوگا۔

سہیل آفریدی کے مطابق ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے کارکن گنڈی چوک لکی مروت سے قافلے میں شامل ہوں گے۔ قافلہ رات کو کرک پہنچے گا جبکہ 5 اکتوبر کو کرک کے کارکن بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ پُرامن ہوگا اور کارکن نہتے ہوکر شریک ہوں، تحریک انصاف کسی قسم کے انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق مارچ 6 اکتوبر کی صبح پشاور پہنچے گا، جہاں سے قافلہ صوابی کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ مالاکنڈ، ہزارہ اور قبائلی اضلاع کے قافلے بھی بعد میں مارچ میں شامل ہوں گے۔

یوں 13 گھنٹے کی طویل سیاسی مشاورت کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کے معاملے پر کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی نے آج سے عملی طور پر لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ٹیگز: • • • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں