مدینہ پر ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کی حوثیوں پر بڑے حملے کی تیاری

ریاض/صنعا، 3 اکتوبر 2026: مدینہ منورہ میں بجلی کی تنصیب پر ڈرون حملے کی اطلاعات کے بعد سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تیاری تیز کردی ہے، جبکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فضائی حملوں، میزائل کارروائیوں اور زمینی جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز نے علاقائی اور مغربی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے۔ ممکنہ کارروائی میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز زمینی آپریشن کریں گی جبکہ سعودی فضائیہ فضائی معاونت فراہم کرے گی۔
سعودی عرب کے ممکنہ آپریشن کی تیاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام نے حوثیوں پر مدینہ منورہ کے بجلی تقسیم مرکز کو ڈرون سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا، تاہم بجلی کی فراہمی کے مجموعی نظام پر بڑا اثر نہیں پڑا۔ حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اس کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق میزائل خمیس مشیط کی سمت داغے گئے تھے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات اور علاقوں پر میزائل و ڈرون حملوں میں اضافے نے ریاض کے لیے یمن میں حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کا معاملہ مزید اہم بنا دیا ہے۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 94 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ حوثی ترجمان کے مطابق حملے صنعا، صعدہ، تعز، حجہ، عمران اور دیگر علاقوں میں کیے گئے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن کے اندر بھی سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔ تعز سمیت متعدد محاذوں پر شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یمنی حکومتی فورسز کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف 474 کارروائیاں کی گئیں اور ان میں 1,540 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یہ اعداد بھی یمنی حکومتی فورسز کا دعویٰ ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
صنعا میں بھی ہفتے کے روز متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حوثی ذرائع نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، جبکہ مقامی رپورٹس کے مطابق دارالحکومت میں جنگی طیاروں کی پروازیں اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سعودی عرب کے بڑے آپریشن کے ممکنہ منصوبے
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام کے سامنے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے کم از کم دو بڑے آپشنز زیر غور ہیں۔ پہلے آپشن میں باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں محدود مگر بڑی فوجی کارروائی شامل ہے، جبکہ دوسرے اور زیادہ وسیع آپشن میں تعز، مآرب، الجوف اور البیضاء سمیت متعدد محاذوں پر بیک وقت زمینی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑے آپریشن کی صورت میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد جنگجوؤں اور فوجیوں کو متحرک کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ تاہم سعودی کارروائی کے آغاز کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی اور اس حوالے سے مختلف ٹائم لائنز زیر بحث ہیں۔
باب المندب سعودی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کرنے سے سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ریاض میں آرامکو تنصیب کے قریب آگ
3 اکتوبر کو ریاض میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب دھوئیں اور آگ کا بڑا بادل بھی دیکھے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ رائٹرز کے مطابق ایک عینی شاہد نے واقعے کی اطلاع دی، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر آگ کی وجہ نہیں بتائی۔ آرامکو نے بھی فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ حوثیوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس لیے اسے حوثیوں کا حملہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
امریکا اور پاکستان کا کردار
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور دیگر معاونت فراہم کررہا ہے، تاہم امریکی فوج کی جانب سے یمن میں براہ راست سعودی زمینی آپریشن میں شمولیت کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے حوالے سے بھی رپورٹ میں سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان اور مشاورتی معاونت فراہم کیے جانے کا ذکر ہے، تاہم پاکستانی فوج کی یمن میں براہ راست جنگی کارروائی میں شمولیت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
موجودہ صورتحال
3 اکتوبر کی رات تک صورتحال یہ ہے کہ مدینہ میں ڈرون حملے کے سعودی الزام، سعودی سرزمین کی جانب حوثیوں کے میزائل حملوں اور یمن میں بڑھتے ہوئے فضائی و زمینی حملوں کے بعد بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کررہا ہے، لیکن بڑے زمینی آپریشن کے باضابطہ آغاز کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔
اسی طرح مدینہ کے بجلی مرکز پر ڈرون حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر سعودی الزام کی صورت میں سامنے آئی ہے؛ اسے حوثیوں کی جانب سے تسلیم شدہ حملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں آئندہ چند دنوں کے دوران باب المندب، بحیرہ احمر اور یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں ہونے والی فوجی پیش رفت انتہائی اہم ہوگی۔