صدر، وزیر اعظم نے گورنر راج یا ایمرجنسی کو ضروری سمجھا تو گورنر اپنا کردار ادا کرے گا، نقوی، کنڈی ملاقات کا اعلامیہ

پشاور، 4 اکتوبر: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں صوبے کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈیلی قدرت کے مطابق ملاقات میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس بھی موجود تھے، جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ کو بریفنگ دی گئی۔
ملاقات کے اعلامیے کے مطابق محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت اور وزیراعظم خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کو ضروری سمجھتے ہیں تو گورنر ہاؤس اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں آئی جی خیبر پختونخوا نے صوبے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کو بریفنگ دی۔ آئی جی نے بتایا کہ صوبے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے، مختلف اضلاع سے پولیس اہلکاروں کو پولیس لائنز طلب کر لیا گیا ہے جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔
ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اعلامیے کے مطابق لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کا استعمال عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔
محسن نقوی کی گورنر ہاؤس آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے اعلامیے میں حتمی نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم صدر مملکت اور وزیراعظم کی جانب سے ایسی ضرورت محسوس کیے جانے کی صورت میں گورنر ہاؤس کے آئینی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔
محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، آئی جی کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی کی تیاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور لانگ مارچ کے باعث صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔