پاکستان ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں معطل، سکیورٹی خدشات اور بینکنگ مسائل اہم وجوہات قرار

پاکستان ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں معطل، سکیورٹی خدشات اور بینکنگ مسائل اہم وجوہات قرار
*اسلام آباد، 19 اکتوبر 2026:* پاکستان اور ایران کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی ہے، جبکہ سرحد کی بندش کے باعث مال بردار گاڑیوں، درآمدی اشیا اور برآمدی سامان کی نقل و حرکت میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ پاکستانی حکام نے اس صورت حال کی وجوہات میں سکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظامات کو مؤثر بنانا شامل قرار دیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات کا حوالہ دیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے مشیر برائے سیاسی و ابلاغی امور شاہد رند کے مطابق سرحد کی عارضی بندش کا مقصد سکیورٹی انتظامات بہتر بنانا، غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام رابطے میں ہیں اور سرحدی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم معمول کی تجارت بحال کرنے کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان اور گبد۔رِمدان کی سرحدی گزرگاہیں تجارت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے ایل پی جی، خوراک، پھل، چاول اور دیگر اشیا کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور سرحد پر سامان کی ترسیل میں تاخیر کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کے مطابق سرحدی نقل و حرکت میں عارضی تعطل کے پس منظر میں بعض تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں اور سرحدی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت جاری ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے سرکاری بیانات میں بندش کی وجوہات کی تفصیلات مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔
ایرانی برآمد کنندگان کو پاکستان میں سامان کی درآمد، ادائیگیوں اور الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے متعلق تقاضوں میں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ایرانی تجارتی حلقوں کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں اور بینکاری نظام کی رکاوٹوں کے باعث ایران سے پاکستان برآمدات متاثر ہوتی رہی ہیں۔ یہ مالیاتی مشکلات سرحدی سرگرمیوں کی معطلی سے الگ بھی دوطرفہ تجارت میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سرحدی معطلی کے باعث متعدد مال بردار گاڑیوں کے پھنسنے اور ایل پی جی سمیت مختلف اشیا کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگر صورت حال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں درآمدی سامان کی دستیابی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور بعض اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
تاہم سرحدی تجارت کی معطلی اور عام مسافروں کی آمدورفت کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ دستیاب رپورٹس میں بعض مقامات پر مسافروں کی نقل و حرکت جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان پوری سرحد پر ہر قسم کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے رابطے جاری ہیں، تاہم 19 اکتوبر تک دستیاب اطلاعات میں تجارت کی مکمل بحالی کے لیے کوئی مصدقہ تاریخ سامنے نہیں آئی۔