مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایف پی سی سی آئی کا اسلامی ممالک کے درمیان معاشی انضمام پر زور

ایف پی سی سی آئی کا اسلامی ممالک کے درمیان معاشی انضمام پر زور

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی نائب صدر قرۃ العین نے اسلامی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، سیاحت اور کاروباری روابط کو بڑھا کر مضبوط معاشی انضمام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 57 مسلم ممالک کی مجموعی معاشی صلاحیت روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام سفارت کاروں کے ساتھ ‘اسلامی معاشی سمٹ’ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو روایتی دوطرفہ تجارت سے آگے بڑھ کر بزنس ٹو بزنس روابط، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کی شراکت داری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور بہتر مواصلاتی رابطوں پر مبنی مربوط معاشی شراکت داری قائم کرنی چاہیے۔ یہ سمٹ ‘کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعاون کے ذریعے اسلامی معاشی انضمام کو فروغ دینا’ کے موضوع پر منعقد کی گئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی فیض احمد، چیف ایگزیکٹو، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے کہا کہ حکومت مسلم ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے ساتھ اپنے معاشی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور OIC رکن ممالک کے ساتھ تجارت اور کاروباری روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے او آئی سی (OIC) کے اندرونی تجارت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں یہ حجم تقریباً 1 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ او آئی سی نے اسے 25 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل آر سی سی آئی وفد کی سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے ملاقات جیسے اقدامات بھی معاشی استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان کے پاس حلال فوڈ، گوشت، ادویات، کاسمیٹکس اور دیگر حلال تصدیق شدہ مصنوعات کا ایک بڑا برآمد کنندہ بننے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل اور گارمنٹ انڈسٹری کو اسلامی ممالک میں برآمدات بڑھانے کے لیے مسابقتی قیمتوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ویلیو ایڈیشن پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر خلیجی مارکیٹوں میں چاول، پھل، سبزیوں اور سمندری غذا کے مواقع اجاگر کیے۔

اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (ICCD) کے سیکرٹری جنرل شیخ یوسف حسن خلاوی نے اختراعی طریقوں سے معاشی رابطوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ احمد الوکیل، نائب صدر ICCD نے کہا کہ اسلامی مالیاتی اداروں کو سرمایہ کاری اور سرحد پار تجارت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے میکانزم بنانے چاہییں۔ بینک اسلامی کے محمد عرفان احمد نے شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی آلات کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ آئی بی اے کی پروفیسر ڈاکٹر ارم صبا نے جدید اسلامی معاشی ماحولیاتی نظام کے لیے تحقیق اور ہیومن کیپیٹل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر فواد شیر اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا کہ اسلامی ممالک کے وسائل، منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مربوط کرنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کی ضرورت ہے۔ اس سمٹ میں افغانستان، آذربائیجان، بنگلہ دیش، عمان، مالدیپ، ایران، انڈونیشیا، آئیوری کوسٹ، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ماریشس، ترکی، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، ازبکستان اور اردن کے سفارتی مشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت، سفارتی مشنز اور نجی شعبے کے درمیان معاشی روابط کو ٹھوس اقدامات میں بدلنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتی رہے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor