پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کا معاہدہ

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ترک ہم منصب سے اہم ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ترکیہ کی وزارت داخلہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے ترک ہم منصب مصطفیٰ چفتچی سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کو فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دہشت گردی اور جرائم کے سدباب کے لیے تاریخی معاہدہ
ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے سدباب کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کے تاریخی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کو جرائم اور تخریب کاری سے پاک رکھنے کے لیے دونوں ممالک باہمی رابطوں کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایف پی سی سی آئی کا اسلامی ممالک کے درمیان معاشی انضمام پر زور دیا جا رہا ہے۔
غیر قانونی امیگریشن میں ریکارڈ کمی پر اطمینان
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن مافیا کے خلاف جاری جامع کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتچی نے بتایا کہ پاکستان کے موثر اور بروقت اقدامات کے نتیجے میں ترکیہ کی جانب غیر قانونی امیگریشن کی شرح 70 فیصد سے کم ہو کر محض 17 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے اس غیر معمولی اور ریکارڈ کمی پر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ آر سی سی آئی وفد کی سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے ملاقات جیسے اقدامات انتظامی امور میں بہتری لاتے ہیں، اسی طرح یہ دورہ بھی دوطرفہ سکیورٹی امور میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام
دونوں وزرائے داخلہ نے باہمی امور پر مسلسل پیش رفت اور فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے دونوں وزارتوں کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ ملاقات میں سائبر پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، نیشنل پولیس اکیڈمی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی شراکت داری بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ طے پانے والے فریم ورک کے تحت دونوں برادر ممالک تکنیکی معاونت، ماہرین کے تبادلوں، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور عملی اقدامات کے ذریعے باہمی تعاون کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ حکومت پاکستان کے حالیہ اقدامات کو پیرودھائی بس اسٹینڈ کو جدید ٹرانسپورٹ مرکز بنانے کا منصوبہ جیسے ترقیاتی کاموں کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔