ایف پی سی سی آئی کا صنعتی بجلی ٹیرف 9 سینٹ کرنے کا مطالبہ

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے گزشتہ دو سالوں کے دوران صنعتی بجلی کے ٹیرف میں 16 سینٹ سے 12 سینٹ فی یونٹ تک کمی کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لانے کا حتمی راستہ ٹیرف کو تمام صنعتی صارفین کے لیے 9 سینٹ سے نیچے لانا ہے۔
صنعتی ٹیرف میں مزید کمی ناگزیر ہے
عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ 12 سینٹ کی شرح اور منتخب اسکیمیں عارضی حل ہیں اور صرف تمام صنعتوں بشمول B3 اور B4 کے لیے یکساں کمی ہی برآمدات کو فروغ دے سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے وزیر کی جانب سے انکریمنٹل کنزمپشن پیکج اور آپشنل ٹو پارٹ ٹو یو (ToU) ٹیرف لانے کی کوششوں کو سراہا۔
انکریمنٹل کنزمپشن پیکج اور ٹو پارٹ ٹو یو ٹیرف پر تحفظات
ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے وضاحت کی کہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکج کا مقصد اضافی بجلی کے استعمال پر رعایت دینا ہے، جبکہ ٹو پارٹ ٹو یو ٹیرف کا ہدف صنعتوں کو دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرنے پر مائل کرنا ہے۔ تاہم، عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ صنعت نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹو پارٹ ٹو یو ٹیرف پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ فکسڈ چارجز بہت زیادہ ہیں اور جنگ کے باعث لاجسٹکس کے مسائل کے پیش نظر یہ ٹیرف موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔
معاشی بہتری کے لیے طویل مدتی حکمت عملی
ایف پی سی سی آئی صدر نے تجویز دی کہ کسی ایک صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے بوجھ دیگر صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتیں پہلے ہی دن کے اوقات اور شمسی توانائی کے مطابق خود کو ڈھال چکی ہیں، لہذا مزید بہتری کی گنجائش محدود ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ B3 اور B4 صارفین پر ابھی بھی کراس سبسڈی کا بوجھ ہے، حالانکہ وہ ہائی وولٹیج پر سپلائی حاصل کرتے ہیں اور ان کی سروس لاگت کم ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عدالتی اصلاحات کے بعد معاشی پالیسیوں میں شفافیت آئے گی، اور آئی ایم ایف کو بھی صنعتی ٹیرف میں کمی پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نجی شعبے کے توانائی ماہرین کی مہارت کے ساتھ مستقبل کی ٹیرف پالیسی میں تعاون کے لیے تیار ہے، کیونکہ ہمارا مشترکہ مقصد پاکستان کی صنعتی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات وزیراعظم شہباز شریف کی اقتصادی پالیسیوں کے تناظر میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
تبصرے (3)