وزیراعظم شہباز شریف کی دانش آئی ٹی پارک کو عالمی معیار بنانے کی ہدایت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش آئی ٹی پارک اسلام آباد کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور فن ٹیک کے شعبوں میں جدید مہارتوں کی فراہمی اور آئی ٹی انٹرپرینیورز کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا سفر جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دانش آئی ٹی پارک اسلام آباد کو ٹیکنالوجی کا عالمی معیار کا مرکز بنایا جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ دانش آئی ٹی پارک کو اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے مؤثر اشتراک سے جدید آئی ٹی ایکو سسٹم کا مرکز بنایا جائے اور اس منصوبے میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شراکت داری سے آپریشنز شروع کیے جائیں۔ وزیراعظم نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ وہ دانش آئی ٹی پارک اسلام آباد کے منصوبے کا جامع کیس اسٹڈی کرے اور اس اہم منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے۔
آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور حکومتی اقدامات
اجلاس کے دوران آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع ایکو سسٹم کی تشکیل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے تحت 50 نجی عمارتوں کو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس میں اپ گریڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ ملک میں اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے 8 انکیوبیشن سینٹرز قائم کئے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، آئی ٹی پروفیشنلز کو سہولیات کی فراہمی کے لیے 105 کو ورکنگ اسپیسز فعال ہیں، جس سے ملک میں آئی ٹی کے شعبے کو وسعت مل رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام کی مشاورت سے ان منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی شراکت داری اور مستقبل کی حکمت عملی بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دانش آئی ٹی پارک اسلام آباد میں آپریشنز کے لیے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا تسلسل ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ حکومت ملک میں ایک ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور صنعتی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو۔
تبصرے (1)