موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کا پگھلنا پاکستان کے لیے سنگین چیلنج

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کا پگھلنا پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس کے باعث انسانی زندگیاں اور تہذیبیں براہ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں ‘پری کاپ۔31’ (Pre-COP 31) ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ کلائوڈ برسٹ اور گلیشیئرز کے پھٹنے جیسے واقعات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیے ہیں، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ متاثرہ ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت کو یقینی بنائے۔
اہم نکات
- پاکستان میں تقریباً ساڑھے 13 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث خطرات کی زد میں ہیں۔
- عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر یہ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہے۔
- ہنزہ کی وادی حسن آباد میں ششپر گلیشیئر کے پھٹنے سے تقریباً ایک ہزار مکانات تباہ ہوئے اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
- موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اٹلی، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک کے ساتھ مل کر تحقیق اور امدادی اقدامات جاری ہیں۔
موسمیاتی تباہ کاریوں کے انسانی پہلو
وفاقی وزیر نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق تباہ کن واقعات کو صرف معاشی نقصان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے ہنزہ کی وادی حسن آباد میں ششپر گلیشیئر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 400 سالہ قدیم بستی چند لمحوں میں تباہ ہو گئی، جس سے لوگوں کا بچپن، یادیں اور معاش چھن گئے۔ انہوں نے نیپال میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں 27 فٹ بلند پانی کی لہر نے پل اور سڑکیں بہا دیں، جس سے بڑی تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ رہا۔
مشترکہ عالمی تحقیق اور حکمت عملی
ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے پہلے پہاڑی علاقوں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن یہ تبدیلیاں مستقبل میں میدانی علاقوں کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موسمیاتی حکمت عملی میں سائنسی، نفسیاتی اور سماجی تحقیق کو شامل کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے ورچوئل یونیورسٹی کے اشتراک سے گلیشیئرز اور برفانی نظام پر تحقیق کو فروغ دینے کا اعلان بھی کیا تاکہ عالمی برادری کے تعاون سے مستقبل کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرکٹک سرکل سمیت عالمی برفانی نظام آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اس کے تحفظ کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔