مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

آر سی سی آئی وفد کی سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے ملاقات

آر سی سی آئی وفد کی سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے نومنتخب صدر نوشیروان خلیل خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے آر سی سی آئی کے پیٹرن اِن چیف و گروپ لیڈر سہیل الطاف کے ہمراہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف سے اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز اور ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وفد میں شامل اہم شخصیات

وفد میں سابق صدر آر سی سی آئی و چیئرمین ریڈامکو (REDAMCO) زاہد لطیف خان، فوری سبکدوش ہونے والے صدر عثمان شوکت، سینئر نائب صدر وسیم اسلم اور نائب صدر اکرام الرحمٰن عباسی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، موجودہ ملکی معاشی صورتحال، راوت انڈسٹریل اسٹیٹ میں شہری سہولیات کی اپ گریڈیشن، اور سڑکوں تک بہتر رسائی کے مسائل سمیت تاجر برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انفراسٹرکچر اور معاشی ترقی

آر سی سی آئی وفد نے راوت انڈسٹریل اسٹیٹ میں انفراسٹرکچر اور بہتر روڈ کنیکٹیویٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات میں بہتری سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ، نئی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ جس طرح ماضی میں پیرودھائی بس اسٹینڈ کو جدید ٹرانسپورٹ مرکز بنانے کا منصوبہ سامنے آیا تھا، اسی طرز پر صنعتی زونز کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر آر سی سی آئی نوشیروان خلیل خان نے حمزہ شہباز شریف کو چیمبر کی اہم سرگرمیوں، کاروباری برادری کے لیے جاری اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے حمزہ شہباز شریف کو آر سی سی آئی چیمبر ہاؤس کے دورے کی خصوصی دعوت بھی دی۔

حمزہ شہباز کا کاروباری برادری کی حمایت کا اعادہ

حمزہ شہباز شریف نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ملکی معاشی ترقی کے لیے آر سی سی آئی کے اقدامات کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے صدر نوشیروان خلیل خان اور نومنتخب آر سی سی آئی عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی کامیاب مدتِ کار کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور برطانیہ میں تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے شراکت داری پر اتفاق ہوا تھا، اسی تناظر میں مقامی سطح پر صنعتکاروں کے مسائل کا حل معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ حکومتی سطح پر تاجروں کے ساتھ ایسے مذاکرات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب ڈالر کے نئے قرض پروگرام پر اسٹاف سطح معاہدہ کے بعد ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor