مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹولنٹن مارکیٹ میں تصادم پر لاہور چیمبر کی شدید تشویش کا اظہار

تصویر

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر خادم حسین چودھری نے لاہور چیمبر میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹولنٹن مارکیٹ میں تاجروں اور سرکاری حکام کے درمیان پیش آنے والے تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف کاروباری ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی محکموں اور تاجروں کے مابین تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات، باہمی مفاہمت اور مشاورت کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔

لاہور چیمبر کا ہنگامی اجلاس

اس ہنگامی اجلاس میں لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں مصباح الرحمن، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین محمد فرغان، ذوالفقار علی چودھری، شہزاد محمود اور طارق محمود کے ہمراہ صابر حمید اور ڈاکٹر صالح محمود نے بھی شرکت کی۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کا ادارہ کسی بھی صورت میں تشدد پسندانہ کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، اشتعال انگیزی اور تصادم کسی بھی تجارتی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری اہلکاروں کا احترام اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہے، تاہم تاجروں کے تحفظات کو بھی منصفانہ اور تعمیری انداز میں سن کر ان کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

کارروائیوں میں توازن کی ضرورت

رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کا تنازعہ بظاہر چند مخصوص دکانداروں سے متعلق تھا، جس کے نتیجے میں پوری مارکیٹ کو سیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے سخت اقدامات پوری تاجر برادری پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے حکام کو چاہیے کہ وہ اقدامات میں توازن رکھیں اور تاجروں کے ساتھ موثر ابلاغ کو یقینی بنائیں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ پُرامن مکالمے اور حکومت و تاجر برادری کے درمیان ذمہ دارانہ تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد افسوسناک ہے اور یہ ان اصولوں کے منافی ہے جو تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان صحتمند تعلقات کے لیے ضروری ہیں۔

مشاورتی عمل کی اہمیت

لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر اور دیگر عہدیداران نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانے سے قبل، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہوں، تاجر نمائندوں کو اعتماد میں لیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بروقت مشاورت سے غلط فہمیوں کا خاتمہ، کشیدگی میں کمی اور سرکاری احکامات پر پیشہ ورانہ طریقے سے عمل درآمد ممکن ہے۔

معاشی استحکام اور تعاون

انہوں نے کہا کہ تاجر ملکی معاشی سرگرمیوں، روزگار کی فراہمی اور سرکاری محصولات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے تحفظات کا مداوا کرنا وقت کی ضرورت ہے، تاہم شکایات کے ازالے کے لیے قانونی اور پُرامن راستہ ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اہلکاروں کو بھی محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول میں اپنے فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

مذاکرات کے ذریعے حل کا مطالبہ

لاہور چیمبر کی قیادت نے متعلقہ حکام اور ٹولنٹن مارکیٹ کی تاجر برادری کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ انہوں نے دونوں فریقین کو مشورہ دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ شہر کے وسیع تر مفاد اور امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے۔ عہدیداران نے مزید کہا کہ سرکاری محکموں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور چیمبرز کے درمیان باقاعدہ رابطہ تنازعات کو تصادم بننے سے روک سکتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں آر سی سی آئی وفد کی سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے ملاقات کے دوران باہمی تعاون پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان باہمی احترام اور مشاورت ہی معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں