مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2026 میں ریکارڈ آمدن کمائی

پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2026 میں ریکارڈ آمدن کمائی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کے فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ 1.758 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کما کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ آمدن حاصل کر لی ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں 4.4 گنا (440 فیصد) اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس طرح پاکستان کی آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، اسی طرح فری لانسنگ کا شعبہ بھی قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

فری لانس برآمدات میں غیر معمولی اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق صرف جون 2026 کے مہینے میں پاکستانی فری لانسرز نے 164 ملین ڈالر کمائے، جو جون 2025 کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کے نوجوان، ہنرمند اور ڈیجیٹل ورک فورس عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ مالی سال 2021 سے 2026 تک فری لانسرز کی برآمدی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو 2021 میں یہ 396 ملین ڈالر تھی، 2022 میں 397 ملین ڈالر، 2023 میں 364 ملین ڈالر، 2024 میں 505 ملین ڈالر، 2025 میں 985 ملین ڈالر جبکہ 2026 میں بڑھ کر 1.758 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ تین برسوں، یعنی 2024 سے 2026 کے دوران فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں 212 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جو پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے کی تیز رفتار ترقی کا واضح ثبوت ہے۔

فی کس آمدن میں اضافہ اور عالمی درجہ بندی

تخمیناً 25 سے 30 لاکھ پاکستانی فری لانسرز کی بنیاد پر اوسط ماہانہ فی کس آمدن بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2021 میں اوسط آمدن تقریباً 12 ڈالر ماہانہ تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 53 ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر گئی، یعنی پانچ برس میں فی کس آمدن میں 4.4 گنا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں پاکستان کے عالمی ڈیجیٹل ٹیلنٹ انڈیکس میں نمایاں مقام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان 193 ممالک میں 16ویں نمبر پر ہے، جو اسے دنیا کے ٹاپ 9 فیصد ممالک میں شامل کرتا ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان چین اور ویتنام جیسی بڑی معیشتوں سے بھی آگے ہے۔ اسی طرح پاکستان نے 80 میں سے 80 کے قریب ٹیلنٹ اسکور حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر آٹھویں پوزیشن حاصل کی، جہاں وہ یورپی یونین، مشرق وسطیٰ اور افریقی خطے کے تمام ممالک سے آگے رہا۔

مستقبل کے امکانات اور حکومتی اقدامات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، بین الاقوامی ادائیگیوں کے آسان نظام، مسابقتی اور مستحکم ٹیکس پالیسی، تیز رفتار براڈ بینڈ اور 5G نیٹ ورک کی توسیع، اور “ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان” جیسے اقدامات پر توجہ دیتی رہی تو پاکستان دنیا کی بڑی فری لانس اور ڈیجیٹل سروسز معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے جاری کوششیں، جیسے کہ پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس و ویب تھری پر تعاون، کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں پاکستان کی برآمدات صرف روایتی اشیا تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ صلاحیت، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل خدمات اور اختراعی آئیڈیاز بھی ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے اہم ستون بنیں گے، جبکہ ڈیجیٹل تعلیم کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم اور نیسلے پاکستان کے مابین اہم معاہدہ طے پانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں