مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس و ویب تھری پر تعاون

پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس و ویب تھری پر تعاون

ٹوکیو (نمائندہ خصوصی)۔ جاپان میں پاکستان کے سفارت خانے نے ایشیا ویب 3 الائنس جاپان (AWAJ) کے تعاون سے پاکستان۔جاپان اسٹارٹ اپ اور اختراعی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، ویب 3، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور اسٹارٹ اپ اختراعات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ اس تقریب میں دونوں ممالک کی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، صنعت اور مختلف اسٹارٹ اپس کے کلیدی نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

پاکستان اور جاپان کے درمیان ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کا فروغ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاپان میں پاکستان کے سفیر عبدالحمید نے کہا کہ پاکستان اور جاپان کے اقتصادی تعلقات میں ٹیکنالوجی اور اختراع کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، ہنر مند آئی ٹی افرادی قوت اور کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے اداروں، کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور اسٹارٹ اپ کمیونٹیز کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ کوششیں ملک میں کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی بنانے کے وژن کے عین مطابق ہیں۔

ڈیجیٹل مستقبل: AI اور ویب 3 کے دور میں تعاون

جاپان کے پارلیمانی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل امور ہیدیتو کاواساکی نے “ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل: AI اور ویب 3 کے دور میں مشترکہ اسٹارٹ اپ تخلیق” کے موضوع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے جاپان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے وژن، مصنوعی ذہانت، ویب 3، محفوظ سرحد پار ڈیٹا فلو اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق حکومتی پالیسیوں کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی جدید ٹیکنالوجی اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے روابط کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان: نوجوان افرادی قوت کی اہمیت

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان نے “ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان” اقدام کے تحت پاکستان کے ٹیکنالوجی ٹیلنٹ، تیزی سے فروغ پاتے ہوئے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور پاکستان۔جاپان تعاون کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان، باصلاحیت اور تربیت یافتہ ڈیجیٹل افرادی قوت ہے، جو عالمی ٹیکنالوجی صنعت کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر چین نے دنیا کا پہلا کمرشل برین چپ امپلانٹ متعارف کروا دیا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے اور پاکستان بھی اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔

پینل مباحثہ اور مستقبل کی راہنمائی

تقریب کے اختتام پر “پاکستان۔جاپان اسٹارٹ اپ اور اختراعی ماحولیاتی نظام میں شراکت داری” کے موضوع پر پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں، وینچر کیپیٹل ماہرین اور ویب 3 شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مباحثے میں جاپانی مارکیٹ میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کی تیاری، مارکیٹ تک رسائی، بین الثقافتی روابط، ایکسلریٹر پروگراموں کے کردار، مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق، ڈیٹا سکیورٹی اور ضابطہ جاتی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کیلئے یکساں ای سم پالیسی متعارف کروانا بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے جو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کرتا ہے۔

اس موقع پر پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانی اسٹارٹ اپس، ٹیکنالوجی کمپنیوں، جامعات، کاروباری تنظیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ جاپانی سرمایہ کاروں اور اختراعی اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنائیں، ایکسلریٹر پروگراموں میں فعال شرکت کریں اور جاپان کے جدید اختراعی ماحولیاتی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ سفارت خانے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور جاپان کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری، اسٹارٹ اپ روابط، سرمایہ کاری اور اختراع پر مبنی اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں طویل المدتی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں