مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر

مدثر مسعود چوہدری کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کے لیے حکومتی ریگولیٹری اصلاحات پر زور دیتے ہوئے۔

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے سینئر رکن مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کا تسلسل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اہم نکات

  • کاروباری آسانیوں کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی قوانین کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
  • مختلف اداروں کے غیر مربوط پورٹلز کے بجائے ون ونڈو آپریشنز اور خودکار منظوریوں کا نظام متعارف کرایا جائے۔
  • ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور شفاف ٹیکس انتظامیہ سے کاروباری اداروں کے گردشی سرمائے کا دباؤ کم ہوگا۔
  • سرکاری معائنے کے نظام کو خطرات کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے تاکہ غیر ضروری اقدامات سے بچا جا سکے۔

ضابطہ جاتی اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ

پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابقہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مدثر مسعود چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف اداروں کے قوانین میں عدم مطابقت کے باعث کاروباری لاگت، انتظامی مشکلات اور غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف وفاقی سطح پر اصلاحات کافی نہیں، بلکہ صوبائی اور مقامی قواعد کو بھی قومی ریگولیٹری رجسٹری میں شامل کیا جائے۔

مدثر مسعود چوہدری نے تجویز دی کہ کاروباری اداروں کو بار بار ایک ہی معلومات فراہم کرنے سے نجات دلانے کے لیے مختلف محکموں کے ون ونڈو پورٹلز کو ایک مربوط نظام سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی سازی، خاص طور پر ماحولیاتی اور پیکیجنگ قوانین کے حوالے سے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صنعتوں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔

ٹیکس نظام میں بہتری اور سرکاری معائنوں کا خاتمہ

ٹیکس نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریفنڈز میں تاخیر اور آڈٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کاروباری شعبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ شفافیت، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ٹیکس تقاضوں کو آسان بنانے سے نجی شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ یاد رہے کہ حالیہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں اور کاروباری سہولیات پر مسلسل بحث جاری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ سرکاری معائنے کے نظام کو خطرات کی بنیاد پر مرتب کیا جائے اور مختلف اداروں کی جانب سے غیر ضروری و بار بار کیے جانے والے معائنوں کو ختم کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منظوریوں کی تعداد کو کم کیا جائے، مقررہ مدت میں خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اور مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹا بیس کو باہم مربوط کرنے کے لیے عوامی ڈیش بورڈز قائم کیے جائیں۔

اہم سوالات و جوابات

کاروباری آسانیوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

مختلف وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے قوانین اور طریقہ کار میں عدم مطابقت کاروباری لاگت، انتظامی مشکلات اور غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے والی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

ٹیکس نظام میں سادگی، ون ونڈو آپریشنز، خودکار منظوریوں اور شفافیت کے ذریعے کاروباری اداروں کے گردشی سرمائے پر دباؤ کم کر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

تبصرے (1)

اپنی رائے دیں