مصنوعی ذہانت میں پاکستان کی پیش رفت پر وفاقی وزیر کا بیان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور حکومت اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی، تربیت اور استعداد کار میں اضافے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ منگل 27 اکتوبر 2026 کو ایوان بالا (سینیٹ) میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
اہم نکات
- حکومت نے مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے قومی سطح پر پالیسی وضع کر رکھی ہے۔
- انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مختلف اداروں کے ذریعے تربیتی پروگرام اور وظائف دیے جا رہے ہیں۔
- ہر ٹیکنالوجی کے کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں، مگر پاکستان عالمی ترقی کی دوڑ سے الگ نہیں رہ سکتا۔
- مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت اور حکومتی حکمت عملی
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ دنیا میں کاروباری آسانیوں اور تکنیکی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ محکموں کے ذریعے اس شعبے میں پیش رفت کی تفصیلات مرتب کر لی ہیں اور سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کو وظائف اور دیگر اقدامات سے متعلق جامع معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور چیمبر جیسے اداروں کے لیے بھی ٹیکنالوجی کا درست استعمال اہمیت کا حامل ہے۔
ٹیکنالوجی کے چیلنجز اور پاکستان کا موقف
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئی ایجاد کے ساتھ جہاں فوائد منسلک ہوتے ہیں وہیں کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، تاہم اس بنا پر ٹیکنالوجی کے فوائد سے دستبردار ہونا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے موبائل فون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے فوائد معاشرتی ترقی میں نمایاں ہیں، بالکل اسی طرح مصنوعی ذہانت بھی مختلف شعبوں میں انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو تعلیمی مواقع اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا۔
اہم سوالات و جوابات
مصنوعی ذہانت کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
حکومت قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت انسانی وسائل کی ترقی، تربیت، استعداد کار میں اضافہ اور وظائف کی فراہمی کے ذریعے اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات سے نمٹا جا سکتا ہے؟
وفاقی وزیر کے مطابق ہر ٹیکنالوجی کے فوائد و نقصانات ہوتے ہیں، تاہم حکومت مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو فروغ دے رہی ہے تاکہ اس کے فوائد سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے مناسب کوششیں جاری رہیں۔