پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ کا یومِ سیاہ، معطل پروفیسرز سے اظہارِ یکجہتی، 29 اکتوبر کو جنرل باڈی اجلاس طلب

*پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ کا یومِ سیاہ، معطل پروفیسرز سے اظہارِ یکجہتی، 29 اکتوبر کو جنرل باڈی اجلاس طلب*
لاہور: پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (آسا) اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کی اپیل پر پنجاب یونیورسٹی میں یومِ سیاہ منایا گیا، جس کے دوران اساتذہ نے دو معطل پروفیسرز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر تدریسی و دفتری فرائض انجام دیے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سردار اصغر اقبال اور آسا کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد نے احتجاج کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اظہر نعیم کی معطلی کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے خلاف مبینہ انتقامی اقدامات اور وائس چانسلر کے طرزِ عمل کے ذریعے اساتذہ کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اساتذہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ اساتذہ کی معطلی سے جامعہ کے تعلیمی ماحول اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی بالادستی، عدالتی فیصلوں کے احترام اور انتظامی اختیارات کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر منصفانہ احکامات کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے مزاحمت کی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 29 اکتوبر کو صبح 10 بجے الرازی ہال میں آسا کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں اساتذہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ، معطل پروفیسرز کی بحالی اور یونیورسٹی کے مختلف مالی و انتظامی معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے جائز حقوق، پیشہ ورانہ وقار اور تعلیمی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے اور مبینہ انتقامی اقدامات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔