مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان پر اہم اجلاس

وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان پر اہم اجلاس

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028 پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے قائم ‘رسائی برائے مالیات’ سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برآمدات، قابل تجدید توانائی اور ہاؤسنگ جیسے ترجیحی شعبوں کے لیے سستی اور آسان مالی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایکسیس ٹو فنانس پلان: اہداف اور گورننس کا ڈھانچہ

اجلاس میں ایک جامع بریفنگ پیش کی گئی جس میں مجوزہ گورننس ڈھانچے، مخصوص اہداف، مالی شمولیت کے فروغ اور رعایتی قرضوں تک رسائی بڑھانے کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ کمیٹی کو ایس ایم ای فنانس ذیلی کمیٹی کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ حکومت کے اہم مالیاتی پروگراموں جن میں ذرخیز (آسان زرعی قرضہ)، پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کے تناظر میں مالیاتی نظم و ضبط، اپنا گھر سکیم اور پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) شامل ہیں، پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد عوام کو کم لاگت الیکٹرک بائیکس اور ای رکشوں کی فراہمی کے ذریعے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب منتقل کرنا ہے۔

مؤثر نگرانی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی

اجلاس میں تین سطحی گورننس فریم ورک پر غور کیا گیا، جس کے تحت وزیراعظم کو ماہانہ پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی ہر پندرہ روز بعد اسٹریٹجک جائزہ لے گی، جبکہ ذیلی کمیٹیاں ہفتہ وار بنیادوں پر کام کریں گی۔ وزیر خزانہ نے پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک جامع ڈیش بورڈ کی تیاری پر زور دیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ سٹیئرنگ کمیٹی حکمت عملی اور پالیسی ہم آہنگی کا مرکزی فورم ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چیمبر وفد کی ملاقات میں بھی ملکی معاشی استحکام اور کاروباری سہولتوں پر گفتگو کی گئی تھی۔

مالیاتی اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل

اجلاس میں ایس ایم ای فنانسنگ کے قومی اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں بینکاری شعبے میں قرضوں کے حجم میں اضافہ، ایس ایم ای ڈیجیٹل پورٹل، اور اوپن بینکنگ فریم ورک شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی کامیابی موثر عملدرآمد اور شفافیت سے مشروط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل، آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کروانے جیسے جدید اقدامات کی طرح مالیاتی شعبے میں بھی ڈیجیٹل اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں