پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کے اہم پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں مہنگائی، پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی، تعمیراتی اخراجات میں اضافے، سکیورٹی انتظامات، منصوبوں میں تاخیر اور ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (فیز ون)، تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ اور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ (K-IV) فیز ون سمیت کئی بڑے منصوبے لاگت میں غیر معمولی اضافے سے متاثر ہوئے ہیں۔
دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ
وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 479.69 ارب روپے سے بڑھ کر 1.122 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو تقریباً 134 فیصد اضافہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ڈیزائن میں تبدیلی، تعمیراتی اخراجات، سکیورٹی انتظامات، اراضی کے حصول اور منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسی طرح مہمند ڈیم کی لاگت 309.56 ارب روپے سے بڑھ کر 665.74 ارب روپے ہو گئی ہے، جو 115 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، ٹھیکیداروں کی لاگت میں اضافہ، سکیورٹی اخراجات اور تکنیکی تبدیلیاں اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
داسو ہائیڈرو پاور اور تربیلا توسیعی منصوبے
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (فیز ون) کی لاگت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 486.09 ارب روپے سے بڑھ کر 1.738 کھرب روپے تک پہنچ گئی، یعنی 260 فیصد اضافہ۔ وزارت کے مطابق اس اضافے کا بڑا حصہ زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی، مہنگائی، سکیورٹی انتظامات، سماجی تحفظ کے اقدامات اور منصوبے کی تعمیر کے دوران مالیاتی اخراجات سے متعلق ہے۔ تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت بھی 82.36 ارب روپے سے بڑھ کر 316.41 ارب روپے ہو گئی، جو تقریباً 285 فیصد اضافہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تخمینے کئی سال پہلے تیار کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں تعمیراتی سامان، الیکٹرو مکینیکل آلات، ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کراچی کا K-IV منصوبہ اور آڈٹ رپورٹ
دوسری جانب کراچی کے K-IV فیز ون واٹر سپلائی منصوبے کی لاگت میں بھی 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزارت کے مطابق درآمدی مشینری کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، سکیورٹی اخراجات اور منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر اس کی اہم وجوہات ہیں۔ وزارت آبی وسائل کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات نے ملک کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے اخراجات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت معاشی جائزے اور دیگر حکومتی فورمز پر ان منصوبوں کی افادیت پر غور کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نظرثانی شدہ لاگت کے بغیر ان قومی اہمیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن نہیں۔ دریں اثنا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں واپڈا کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے بعد ان منصوبوں میں مالی شفافیت، نگرانی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔