مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چینی سفیر کی اہم ملاقات

وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چینی سفیر کی اہم ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے چین کے پاکستان میں تعینات سفیر، عزت مآب جیانگ زائی ڈونگ نے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

پاک چین تزویراتی شراکت داری کا اعادہ

وزیرِ اعظم نے چین کے صدر عزت مآب شی جن پنگ اور وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان ہمہ جہت اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا اور رواں سال مئی میں اپنے دورۂ چین کے خوشگوار لمحات کو یاد کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے دونوں فریق قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام ان باہمی فوائد سے مستفید ہو سکیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے حال ہی میں وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان پر اہم اجلاس بھی منعقد کیا گیا تھا جس میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔

علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور جنوبی ایشیا سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چینی سفیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین، پاکستان کو اپنا آہنی بھائی (Iron Brother) سمجھتا ہے اور پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی سماجی و معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان کے دیگر شعبہ جات میں بھی ترقی کا سفر جاری ہے، جیسا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے قونصلر سروسز کیلئے شام کی شفٹ کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر ہوں۔ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اسی طرح کی دوستی کی ایک مثال عبدالعلیم خان کا سکردو گلگت روڈ پر سیلاب سے متاثرہ پل کا معائنہ بھی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ڈھانچے کے اشتراک کو ظاہر کرتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں