آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات، مظفر آباد اور مہاجر نشستوں پر پولنگ

مظفر آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کی 9 اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر آج پولنگ کا عمل جاری ہے۔ ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو کسی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک مکمل ہوگا۔
انتظامی تیاریاں اور سیکیورٹی اقدامات
انتخابات کے لیے گزشتہ روز سے ہی انتخابی سامان کی ترسیل اور پولنگ عملے کی تعیناتی کا عمل تسلی بخش انداز میں مکمل کر لیا گیا تھا۔ متعلقہ ریاستی اداروں نے پولنگ کے پرامن انعقاد کے لیے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے ہیں۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ملک بھر میں سیلابی صورتحال: ریلوے ہائی الرٹ، سٹاف کی چھٹیاں منسوخ، حنیف عباسی کا حکم جیسی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس ہے۔
مظفر آباد ڈویژن میں انتخابی معرکہ
مظفر آباد ڈویژن کے تین اہم اضلاع مظفر آباد، نیلم اور جہلم ویلی کے 9 انتخابی حلقوں میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 8 لاکھ 90 ہزار 621 ہے۔ ووٹرز کی سہولت اور ووٹ کے حق کو یقینی بنانے کے لیے ڈویژن بھر میں ایک ہزار 483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان 9 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی، دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 208 امیدوار اپنی انتخابی قسمت آزما رہے ہیں۔
مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخاب
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین بھی قانون ساز اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں جموں کی 6 نشستیں (ایل اے 34 جموں 1 سے ایل اے 39 جموں 6 تک)، جبکہ ویلی کی 6 نشستیں (ایل اے 40 ویلی 1 سے ایل اے 45 ویلی 6 تک) شامل ہیں۔ یاد رہے کہ خطے میں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کا معاہدہ جیسے اہم قومی امور کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل کا تسلسل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
الیکشن کمیشن کا موقف
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات اور انتظامی سہولت کے پیش نظر انتخابات مرحلہ وار کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ روز مظفر آباد میں غیر یقینی کی کیفیت ضرور تھی، تاہم آج امن و امان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے اور شفاف، آزاد اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اب تو وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے، شاہد خاقان عباسی جیسے بیانات کے تناظر میں اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلہ کریں۔