مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

یورپی یونین نے نابینا افراد کیلئے جدید بایونک آنکھ کی منظوری دے دی

یورپی یونین نے نابینا افراد کیلئے جدید بایونک آنکھ کی منظوری دے دی

لندن (نمائندہ خصوصی)۔ یورپی یونین نے بینائی سے محروم افراد کے لیے تیار کیے گئے ایک جدید بایونک آنکھ (Bionic Eye) امپلانٹ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے طبی ماہرین نے بصارت کی بحالی کے شعبے میں ایک انقلابی اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے ان مریضوں میں نئی امید پیدا ہوئی ہے جو ریٹینا کی سنگین بیماریوں کے باعث اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور ریٹینل امپلانٹ کے فوائد

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی بایوٹیک کمپنی سائنس کارپ (Science Corp) کی تیار کردہ یہ ڈیوائس گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں منظور ہونے والا پہلا جدید ریٹینل امپلانٹ ہے۔ یہ امپلانٹ ریٹینائٹس پگمنٹوسا سمیت ریٹینا کی دیگر پیچیدہ بیماریوں میں متاثرہ خلیات کو بائی پاس کرتا ہے اور آنکھ کے صحت مند اعصابی خلیات کو براہِ راست برقی سگنلز فراہم کرتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے دماغ دوبارہ بصری معلومات وصول کرنے اور انہیں پروسیس کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

مریضوں کی زندگی میں بہتری کی امید

کمپنی کے ترجمان کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کی بدولت مریض اشیا کو پہچاننے، اپنے اردگرد کے ماحول میں بہتر انداز میں نقل و حرکت کرنے اور روزمرہ کے کئی معمولات پہلے سے زیادہ خودمختاری کے ساتھ انجام دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ جیسے پاکستان میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور دیا جاتا ہے، اسی طرح عالمی سطح پر بھی ایسی ٹیکنالوجیز پر خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

مستقبل کے طبی پروگرام اور کلینیکل آزمائشیں

ابتدائی مرحلے میں اس امپلانٹ کا استعمال یورپ میں محدود طبی پروگراموں کے تحت کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ ہموار ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظوری نیورو ٹیکنالوجی اور مصنوعی بینائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگر آئندہ کلینیکل آزمائشوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا تسلسل برقرار رہا تو مستقبل میں دنیا بھر کے لاکھوں نابینا افراد کے لیے بینائی بحال کرنے کی نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات کی حمایت ضروری ہے، جس طرح وزیر مملکت وجیہہ قمر کی قازقستانی وزیر سائنس سے اہم ملاقات کے دوران تکنیکی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، اس طرح کی طبی ایجادات کے فروغ کے لیے معاشی استحکام بھی ناگزیر ہے، جیسا کہ ملک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے اثرات عام آدمی پر مرتب ہوتے ہیں، مگر سائنسی تحقیق کے شعبے میں ایسی پیش رفت انسانیت کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں