فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی

پیرس (نمائندہ خصوصی)۔ فرانس نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک اہم اور تاریخی اقدام کرتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے ایسا قانون نافذ کیا ہے۔
نئے قانون کے اہم پہلو
نئے قانون کے تحت یکم ستمبر 2026 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہیں بنائے جا سکیں گے، جبکہ موجودہ اکاؤنٹس بھی مرحلہ وار بند کیے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر نظام متعارف کرانا ہوگا تاکہ قانون پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کی جانب ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
حکومتی موقف اور مقاصد
فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد بچوں کو سائبر بُلیئنگ، نامناسب آن لائن مواد، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، خودکشی کے رجحانات اور سوشل میڈیا کی لت جیسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام بچوں کی ذہنی صحت اور آن لائن سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیصلہ سازی نظام کا آغاز جیسے جدید رجحانات کا بھی بغور مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو روکا جا سکے۔
تکنیکی چیلنجز
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کے مؤثر نفاذ، صارفین کی عمر کی درست تصدیق اور رازداری کے تحفظ جیسے معاملات اب بھی حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ اس حوالے سے ایس ای سی پی کی تصدیق انفارمیشن سروسز کے آئی پی او کی منظوری جیسے شفافیت کے معیارات کو ڈیجیٹل دنیا میں لاگو کرنے پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔