حکومت پاکستان نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 جاری کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزارتِ انسانی حقوق نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 (NAP-HR 2026) کا باضابطہ اجراء کر دیا، جو انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم اور مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایکشن پلان وزارتِ انسانی حقوق نے یورپی یونین کے ‘حقوقِ پاکستان II’ (Huqooq-e-Pakistan II) منصوبے کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں، یہ اقدام ملکی پالیسی سازی میں ایک نئی جہت ثابت ہوگا۔
تقریبِ رونمائی اور شرکت
تقریبِ رونمائی میں وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری، اراکینِ پارلیمان، سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، وفاقی و صوبائی اداروں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات، ترقیاتی شراکت داروں، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔ تقریب میں NAP-HR 2026 کی باضابطہ رونمائی کی گئی، جو سابقہ قومی ایکشن پلانز کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے عملدرآمد میں موجود خلا اور انسانی حقوق سے متعلق ابھرتی ہوئی ترجیحات کا احاطہ کرتا ہے۔
وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک کا بیان
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکشن پلان آئینی ضمانتوں کو مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات میں ڈھالنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے، جو قومی ترجیحات اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے ایکشن پلان کی تیاری میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات اور یو این ڈی پی پاکستان کے فعال کردار کو بھی سراہا۔ حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایسی پالیسیاں ملکی ساکھ کو بہتر بناتی ہیں۔
سیکریٹری وزارتِ انسانی حقوق کے نکات
اس موقع پر سیکریٹری وزارتِ انسانی حقوق، عبدالخالق شیخ نے کہا کہ NAP-HR 2026 وزارتِ انسانی حقوق کی قیادت میں یورپی یونین کے حقوقِ پاکستان II منصوبے کے تحت یو این ڈی پی کے اشتراک سے جاری ایک وسیع قومی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے تیسرے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق میں چھ موضوعاتی شعبوں اور 86 عملی اقدامات کو شامل کیا گیا ہے، جن کا مقصد قانونی و پالیسی اصلاحات، کمزور طبقات کے تحفظ، انسانی حقوق سے متعلق آگاہی، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، اور ڈیجیٹل حقوق، قیدیوں کے حقوق اور موسمیاتی تبدیلی جیسے ابھرتے ہوئے موضوعات پر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
بین الاقوامی شراکت داروں کا عزم
پاکستان میں یورپی یونین کے ناظم الامور فلپ اولیور گروس نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ جمہوری طرزِ حکمرانی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے یورپی یونین کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، ‘جی ایس پی پلس سمیت ہمارا تعاون بنیادی انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 واضح ذمہ داریوں اور قابلِ پیمائش اہداف پر مشتمل ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو مؤثر عملدرآمد اور احتساب کو فروغ دے گا۔’ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ‘انسانی حقوق کو موجودہ دور کے تقاضوں اور عوام کو درپیش نئے چیلنجز سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یہ ایکشن پلان اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔’ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا پاکستان کینیڈا تعلقات پر زور دینے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مثبت شبیہ اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مربوط عملدرآمدی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے قابلِ پیمائش اقدامات، بہتر بین الادارہ جاتی رابطے اور مؤثر نگرانی کے نظام کے ذریعے پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔