مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا عمل شروع

سٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا عمل شروع

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان کے نجکاری پروگرام کے تحت پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ملک کے سب سے بڑے انشورنس ادارے “اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان” (SLIC) کی نجکاری کی جانب پہلا عملی اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسٹرکچرنگ اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مالیاتی مشیر (Financial Adviser) کی تقرری کا عمل باقاعدہ شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اشتہار جاری کرتے ہوئے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں یا کنسورشیم سے ٹیکنیکل اور فنانشل پروپوزلز طلب کر لی ہیں، جنہیں جمع کرانے کے لیے 13 اگست 2026ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

نجکاری کا لائحہ عمل اور قانونی تقاضے

تقرری کے بعد فنانشل ایڈوائزر مارکیٹ کا تفصیلی جائزہ لینے، ممکنہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، نجکاری کا موزوں ترین طریقہ کار تجویز کرنے اور شفاف طریقے سے اس پوری ٹرانزیکشن کو مکمل کرنے میں کمیشن کی مدد کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ لائف کی نجکاری یا حصص کی فروخت سے قبل اس کی ‘کارپوریٹائزیشن’ یعنی ادارے کو لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنا ایک لازمی شرط ہے، جس کے لیے وزارتِ تجارت نے وزارتِ قانون کی مشاورت سے انشورنس ایکٹ 2026ء کا مسودہ تیار کیا ہے جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ جیسا کہ حکومت کی جانب سے مختلف اداروں میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ ہو گئے ہیں تاکہ معاشی استحکام کے لیے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

انتظامی مؤقف اور ملازمین کے تحفظات

دوسری جانب اسٹیٹ لائف کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کو واضح کیا ہے کہ ادارے کی کارپوریٹائزیشن یا نجکاری کے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مروجہ قوانین کے تحت تفصیلی قانونی، مالیاتی اور اسٹریٹجک آڈٹ (Due Diligence) کا ہونا ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح او آئی سی خواتین کانفرنس کے تکنیکی اجلاس مکمل، پاکستان کل قیادت سنبھالے گا، اسی طرح بین الاقوامی اصولوں کو اپنانا نجکاری کے عمل میں شفافیت کے لیے ضروری ہے۔

مزید برآں، اسٹیٹ لائف کی ایمپلائز یونین نے نجکاری کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونین کا مؤقف ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اور حکومت کا یہ اقدام بنیادی طور پر پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی طرزِ عمل کے مطابق اصلاحات لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ عمل ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب او آئی سی وزارتی کانفرنس مسلم ممالک میں تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جس سے پاکستان کے عالمی مالیاتی امیج پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں